وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے لندن میں کسی اہم سیاسی ملاقات کی اطلاعات کو محض افواہیں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کسی ملاقات کی حقیقت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی ریفرنڈم کسی ایک وزیر یا حکومتی شخصیت کے بیان کی بنیاد پر نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لیے آئینی اور پارلیمانی طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔
صوبوں کی تعداد میں اضافے اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث پر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس معاملے پر حتمی بحث اور فیصلہ پارلیمان کے فورم پر ہی ہونا چاہیے ۔ اگر نئے صوبوں کے حوالے سے معاملہ دوبارہ زیر بحث آتا ہے تو اس کے لیے پارلیمنٹ میں نئے سرے سے قرارداد لانا ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب اسمبلی کی جانب سے ماضی میں منظور کی گئی بعض قراردادیں اب مؤثر نہیں رہیں۔ بہاولپور اور ملتان کو صوبہ بنانے سے متعلق پہلے کی قراردادوں کی موجودہ صورتحال بھی ایسی نہیں کہ انہیں بنیاد بنا کر آئندہ کا فیصلہ کیا جاسکے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سیاسی معاملات پر روزانہ مختلف رہنماؤں کی جانب سے بیانات سامنے آتے رہتے ہیں اور ہر بیان کا جواب دینا ممکن نہیں ، انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی شخصیات کی جانب سے طویل بیانات دیے جا رہے ہیں تاہم حکومت ہر بیان کے پیچھے چلنے کے بجائے اس معاملے کو پارلیمانی فورم پر دیکھے گی۔
وزیراعظم کے مشیر نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ عوامی ریفرنڈم کا انعقاد کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوسکتا۔ اس نوعیت کے معاملے میں پارلیمنٹ کی منظوری اور آئینی تقاضوں کو پورا کرنا بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کے قیام سے متعلق بحث کو اس وقت میڈیا میں مختلف انداز سے پیش کیا جا رہا ہے۔ جب یہ معاملہ باقاعدہ طور پر پارلیمان میں آئے گا تو حکومت اپنا مکمل مؤقف ایوان کے سامنے پیش کرے گی اور تمام پہلوؤں پر تفصیلی بحث ہوگی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو اپنے خیالات کے اظہار سے روکا نہیں جاسکتا تاہم حتمی فیصلہ پارلیمان میں ہونے والی کارروائی اور سیاسی اتفاق رائے کے ذریعے ہی آگے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پارلیمانی فیصلے کے مطابق آگے بڑھنے کی پالیسی رکھتی ہے۔
مریم نواز کے حالیہ بیان سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے درست بات کی ہے۔ ان کے مطابق بعض افراد سیاسی معاملات کو تعصب کی نظر سے دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں اصل صورتحال سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔
پنجاب میں دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ صوبے کو مختلف اوقات میں دہشت گردی کا سامنا رہا ہے۔ بعض حملوں میں ملوث عناصر خیبر پختونخوا سے پنجاب میں داخل ہوئے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ افغان باشندوں اور خیبر پختونخوا سے فرار ہونے والے بعض عناصر کی جانب سے پنجاب میں کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔ پنجاب کو سب سے زیادہ خطرہ ایسے ہی عناصر سے ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے جن خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے وہ ان کے خیال میں درست ہیں۔ بعض سیاسی حلقے تعصب کی وجہ سے ان بیانات کے پس منظر اور حقیقت کو درست طور پر سمجھنے سے قاصر ہیں۔


