ہیکرز فنگر پرنٹس تک کیسے پہنچ رہے ہیں؟ پی ٹی اے نے اہم انکشاف کردیا

ہیکرز فنگر پرنٹس تک کیسے پہنچ رہے ہیں؟ پی ٹی اے نے اہم انکشاف کردیا

پاکستان میں سمز کے اجرا کے لیے موجودہ فنگر پرنٹ بائیومیٹرک نظام کو تبدیل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام پرانا ہوچکا ہے اور اس میں موجود خامیوں کی وجہ سے شہریوں کے ڈیٹا کے غلط استعمال اور فراڈ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ غیر قانونی سمز کے خلاف کارروائی کے باوجود موجودہ بائیومیٹرک نظام شناخت اور مالی فراڈ کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام رہا ہے۔ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران 1 کروڑ 82 لاکھ غیر قانونی سمز بلاک کی جاچکی ہیں۔

یہ بھی پرھیں:ملکی وے سے غیر مرئی چیز گزر ، ستاروں کی حرکت نے سائنسدانوں کو حیران کردیا

چیئرمین پی ٹی اے ریٹائرڈ میجر جنرل حفیظ الرحمان نے کمیٹی کو بتایا کہ فراڈ کرنے والے عناصر ہوائی اڈوں، ڈرائیونگ لائسنس مراکز، پاسپورٹ دفاتر اور ممکنہ طور پر نادرا سے بھی شہریوں کے فنگر پرنٹس حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سمز کے اجرا کے لیے استعمال ہونے والے بائیومیٹرک نظام کو بھی بائی پاس کیا جا رہا ہے۔

این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر عرفان اللہ خان نے بتایا کہ جرائم پیشہ عناصر نظام کی خامیوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ کارروائیوں کے دوران اسکیم میں استعمال ہونے والی 195 فعال سمز اور 81 اے ٹی ایم کارڈز قبضے میں لیے گئے۔

این سی سی آئی اے اور پی ٹی اے نے مشترکہ کارروائیوں کے دوران 110 مقامات پر چھاپے مارے، 29 ہزار غیر قانونی سمز بلاک کیں اور 171 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔ کارروائیوں میں 6 لاکھ افراد سے متعلق ڈیٹا بھی برآمد ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:اےآئی سے بنائے گئےپیر کامل ناول کےمناظر پر عمیرہ احمد کا ردعمل سامنے آ گیا

طلال چوہدری نے فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم کی منتقلی کے لیے کرائے پر لیے گئے یا دوسرے افراد کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ٹیلی کام کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ پی ٹی اے کے ساتھ مل کر اپنے سیکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنائیں۔

چیئرمین پی ٹی اے نے تجویز دی کہ سمز کا اجرا صرف نادرا کے پاک آئی ڈی نظام کے ذریعے کیا جائے۔ اسٹیٹ بینک کے ایک عہدیدار نے ہر سم کو صرف ایک آئی ایم ای آئی نمبر سے منسلک کرنے کی تجویز دی، جبکہ رکن قومی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نے تجویز دی کہ کسی شہری کے شناختی کارڈ پر ایک سے زیادہ سم جاری ہونے کی صورت میں اسے خودکار ایس ایم ایس کے ذریعے اطلاع دی جائے۔

قائمہ کمیٹی نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ اسٹیٹ بینک، پی ٹی اے، این سی سی آئی اے اور ٹیلی کام کمپنیوں کو ایک ساتھ بٹھا کر غیر قانونی سمز کی روک تھام اور سائبر سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے قانونی، ضابطہ جاتی اور تکنیکی اقدامات تیار کیے جائیں۔

editor

Related Articles