تیل مہنگا، کھاد مہنگی، خوراک بھی پہنچ سے دور،دنیا پرمہنگائی کا نیا طوفان منڈلانے لگا

تیل مہنگا، کھاد مہنگی، خوراک بھی پہنچ سے دور،دنیا پرمہنگائی کا نیا طوفان منڈلانے لگا

عالمی بینک نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی اور توانائی کی عالمی رسد میں رکاوٹوں کے باعث مہنگائی کے نئے طوفان کا خدشہ ظاہر کردیا ہے۔
ادارے کے مطابق توانائی، خوراک، کھاد اور دیگر بنیادی اجناس کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے جبکہ کئی ممالک میں غذائی عدم تحفظ سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق عالمی بینک کی تازہ رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2026 کے دوران عالمی اجناس کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 23 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ توانائی کی قیمتیں 32 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔

خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ

رپورٹ کے مطابق 2026 میں عالمی سطح پر خوراک کی قیمتیں 10 فیصد سے زائد بڑھ سکتی ہیں، جبکہ 2027 میں بھی مزید 7 فیصد سے زیادہ اضافے کا امکان ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :اے آئی سے ترقی یا بے روزگاری؟ ورلڈ بینک نے پاکستان کے لیے اہم پیش گوئی کر دی
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، تیل کی فراہمی میں رکاوٹیں اور روس یوکرین جنگ کے باعث اناج کی ترسیل متاثر ہونا اس صورتحال کی اہم وجوہات قرار دی گئی ہیں۔
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ کی شدت مزید بڑھتی ہے اور توانائی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو خوراک کی قیمتوں میں اضافہ موجودہ اندازوں سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کم آمدنی والے ممالک کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان میں کپاس کی پیداوار کم ہونے کا خدشہ

عالمی بینک نے پاکستان کے زرعی شعبے سے متعلق بھی اہم پیش گوئی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں 6 فیصد کمی کا امکان ہے، جبکہ عالمی سطح پر کپاس کی پیداوار بھی 3 فیصد کم ہوسکتی ہے۔

چین میں کپاس کی پیداوار 6 فیصد اور امریکا میں 3 فیصد کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ برازیل اور بھارت میں پیداوار ایک، ایک فیصد بڑھنے کی توقع ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث عالمی تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور 2026 کے دوران عالمی سطح پر تیل کی رسد میں 5.2 فیصد کمی متوقع ہے۔ 2020 کی عالمی کساد بازاری کو چھوڑ کر یہ گزشتہ چار دہائیوں میں تیل کی رسد میں سب سے بڑی سالانہ کمی ہوسکتی ہے۔

عالمی بینک کے مطابق تیل کی طلب میں 2.5 فیصد کمی کا امکان نہ ہوتا تو خام تیل کی قیمتیں مزید بلند ہوسکتی تھیں۔ توانائی کی قیمتوں میں متوقع 32 فیصد اضافہ 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہوگا۔

کھاد مہنگی ہونے سے زرعی شعبے پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ

عالمی بینک نے یوریا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث 2026 میں کھاد کی مجموعی قیمتوں میں 14 فیصد اضافے کی پیش گوئی بھی کی ہے، تاہم 2027 میں کھاد کی قیمتیں دوبارہ 2025 کی سطح پر آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق کھاد اور توانائی مہنگی ہونے سے زرعی پیداوار کی لاگت بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات بالآخر غذائی اجناس کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

دھاتیں بھی مہنگی ہونے کی پیش گوئی

رپورٹ کے مطابق 2026 میں دھاتوں کی عالمی قیمتوں میں 25 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ ایلومینیم، تانبے اور ٹن کی قیمتیں نئی بلند ترین سطحوں تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات میں عالمی رسد کی رکاوٹیں، قابل تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیوں اور ڈیٹا سینٹرز کے شعبوں میں بڑھتی ہوئی طلب شامل ہیں۔

عالمی بینک کے نائب چیف اکانومسٹ ایہان کوسے کے مطابق عالمی اجناس کی منڈیوں کو بیک وقت کئی بڑے دھچکوں کا سامنا ہے۔ توانائی کے بڑھتے اخراجات اور تجارتی رکاوٹیں مختلف اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں، جس سے مہنگائی، غذائی عدم تحفظ اور معاشی ترقی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

2010 کی دہائی جیسا غذائی بحران پیدا ہونے کا اندیشہ

عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو 2010 کی دہائی کے اوائل جیسا غذائی بحران جنم لے سکتا ہے  جب 4 کروڑ سے زائد اضافی افراد انتہائی غربت کا شکار ہوگئے تھے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکا ایران کشیدگی کے اثرات، ورلڈ بینک نے عالمی اقتصادی سست روی اور مہنگائی سے خبردار کردیا

ادارے کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جنگ سے منفی طور پر متاثر ہونے والے 25 ممالک کو اب تک 8 ارب 70 کروڑ ڈالر کے کم شرح سود والے قرضے اور دیگر امداد فراہم کی جاچکی ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات صرف تیل کی منڈی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خوراک، زراعت، کھاد، صنعت اور عالمی تجارت سمیت معیشت کے مختلف شعبے متاثر ہوسکتے ہیں۔

editor

Related Articles