روس نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے اور خلیجی خطے میں فوجی تصادم روکنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی نئی پیشکش کر دی ہے۔ روس نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایرانی افزودہ یورینیم کا معاملہ مذاکرات میں رکاوٹ بنتا ہے تو وہ اسے اپنی سرزمین پر وصول کرنے کے لیے تیار ہے۔
اطلاعات کے مطابق کریملن کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر ایران اور امریکا دونوں درخواست کریں تو روس ان کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے۔ ماسکو خطے میں فوجی کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے اور سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
روسی پیشکش میں ایران کے افزودہ یورینیم کا معاملہ بھی شامل ہے، جو ایران اور امریکا کے درمیان جوہری تنازع کے اہم نکات میں سے ایک ہے۔ کریملن کے ترجمان کے مطابق اگر یہ معاملہ مذاکرات میں رکاوٹ بنتا ہے تو روس ایرانی افزودہ یورینیم اپنے ہاں رکھنے کے امکان پر تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں :مائیکروسافٹ کا نیا اے آئی نظام، تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نکل گیا
ایران کے جوہری پروگرام اور یورینیم کی افزودگی کی سطح پر امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کا اظہار کرتا رہا ہے، جبکہ تہران اپنے جوہری پروگرام کو اپنے مؤقف کے مطابق آگے بڑھانے پر زور دیتا رہا ہے۔
روسی حکام کے مطابق ایران کا معاملہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں میں بھی زیر بحث آتا رہتا ہے، جہاں دونوں ممالک اس حوالے سے اپنے مؤقف کا تبادلہ کرتے ہیں۔
روس اس سے قبل بھی ایرانی افزودہ یورینیم اپنی سرزمین پر محفوظ رکھنے اور جوہری تنازع کے حل میں معاونت کی پیشکش کر چکا ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق رواں سال اپریل میں روسی حکام نے بتایا تھا کہ امریکا نے ایرانی یورینیم روس منتقل کرنے کی تجویز مسترد کر دی تھی۔
روس کی تازہ پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام اور خلیجی خطے کی سکیورٹی سے متعلق اختلافات موجود ہیں۔ ماسکو سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی خواہش ظاہر کر رہا ہے۔
تاہم، روس کی تازہ پیشکش پر ایران اور امریکا کا باضابطہ ردعمل فراہم کردہ اطلاعات میں سامنے نہیں آیا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ دونوں ممالک روس کی ثالثی یا ایرانی افزودہ یورینیم اپنی سرزمین پر منتقل کرنے کی تجویز پر آمادگی ظاہر کریں گے یا نہیں۔