امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کیلئے اہم سیاسی امتحان قریب آگیا، ملک میں وسط مدتی انتخابات منگل 3 نومبر کو ہوں گے جن کے نتائج آئندہ دو برسوں کیلئے امریکی سیاست کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
انتخابات میں فیصلہ ہوگا کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول کس سیاسی جماعت کے پاس ہوگا اور صدر ٹرمپ کو اپنے حکومتی ایجنڈے پر عمل درآمد کیلئے کتنی سیاسی حمایت حاصل رہے گی۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کو صدر کی مقبولیت اور حکومتی کارکردگی کا اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ ان انتخابات میں امریکی عوام کانگریس کے ارکان کا انتخاب کرتے ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس میں صدر کی مدت پوری ہونے سے پہلے کانگریس کی سیاسی ساخت تبدیل ہونے کا امکان بھی پیدا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ایران جنگ میں امریکہ کے کتنے طیارے تباہ ہوئے ؟ کانگریس رپورٹ میں بڑا انکشاف
اگر صدر کی جماعت دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو قانون سازی اور حکومتی منصوبوں پر عمل درآمد نسبتاً آسان رہتا ہے، تاہم مخالف جماعت کے کنٹرول میں آنے سے انتظامیہ کو مختلف سیاسی اور قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس وقت امریکی سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کو 53 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس 47 نشستیں ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان میں اپنی نشستوں کی تعداد بڑھانا ہوگی۔
انتخابات کے نتائج کے بعد کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے کی صورت میں صدر ٹرمپ کی قانون سازی کی حکمت عملی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر بجٹ، ٹیکس پالیسی، امیگریشن، خارجہ امور اور دیگر اہم حکومتی معاملات پر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب حالیہ عوامی سرویز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح میں کمی سامنے آنے کی اطلاعات ہیں، جس نے ری پبلکن پارٹی کیلئے انتخابی چیلنجز بڑھا دیے ہیں۔ سیاسی مبصرین کی نظر میں ووٹرز کی جانب سے حکومتی کارکردگی پر ردعمل ان انتخابات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اگر ڈیموکریٹس کانگریس کے کسی ایک یا دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو صدر ٹرمپ کو اپنے آئندہ منصوبوں کی منظوری کیلئے اپوزیشن کی حمایت حاصل کرنے یا سیاسی سمجھوتے کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کے برعکس ری پبلکنز کی اکثریت برقرار رہنے سے ٹرمپ انتظامیہ کو اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رکھنے میں سہولت مل سکتی ہے۔