اقوام متحدہ میں پاکستان کا دو ٹوک مؤقف، حوثی حملوں کی شدید مذمت، سعودی عرب کے حقِ دفاع کی مکمل حمایت کا اعلان

اقوام متحدہ میں پاکستان کا دو ٹوک مؤقف، حوثی حملوں کی شدید مذمت، سعودی عرب کے حقِ دفاع کی مکمل حمایت کا اعلان

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یمن کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور حوثی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کے دفاعی اقدامات کی مکمل حمایت کی ہے۔ 

پاکستانی مندوب نے واضح کیا ہے کہ تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے اور خطے کو بڑے بحران سے بچانے کے لیے فوری سفارتی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں یمن کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، مکہ معاہدے پر اہم ترین پیشرفت

انہوں نے خبردار کیا کہ باب المندب آبنائے کے قریب ہونے والے یہ حملے عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ سفیر عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ اہم بحری تجارتی راستوں کو خطرے میں ڈالنا یا انہیں بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی بحری تجارت، جہاز رانی کی آزادی اور عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

یمن میں جنگ کے بادل اور انسانی بحران

پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ یمن کی صورتحال اس وقت ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ 2022 سے یمن میں قائم رہنے والا نسبتاً پرامن ماحول اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ عاصم افتخار نے متنبہ کیا کہ یمن کے مغربی ساحل پر حوثیوں کی پیش قدمی اور مسلسل لڑائی کے باعث ایک بار پھر مکمل جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے وہاں پہلے سے موجود سنگین انسانی بحران مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔

جامع سیاسی عمل اور سعودی عرب کا حقِ دفاع

بحران کی سنگینی کے پیشِ نظر، پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کو فروغ دینے پر زور دیا۔ پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک ایسے جامع سیاسی عمل کی بحالی کی بھرپور حمایت کرتا ہے جس کی قیادت خود یمنی عوام کے پاس ہو۔

 اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کا بھی اعادہ کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے تحت، سعودی عرب کو اپنے شہریوں، رہائشیوں، قومی اثاثوں اور اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے۔

یمن کا تنازع ایک طویل عرصے سے مشرقِ وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی کوششوں سے فریقین کے مابین جنگ بندی کا ایک معاہدہ طے پایا تھا جس نے خطے میں ایک عارضی سکون پیدا کیا تھا۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان، سعودی عرب کے درمیان اقتصادی و زرعی تعاون بڑھانے پر زور

 تاہم حالیہ مہینوں میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی جانب سے دوبارہ پیش قدمی اور تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد یہ امن معاہدہ عملی طور پر دم توڑ چکا ہے۔

ان کارروائیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے اور اقوام متحدہ مسلسل خبردار کر رہا ہے کہ باب المندب کے اطراف کی صورتحال انتہائی غیر مستحکم ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کا یہ حالیہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس بیان کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف اپنے دیرینہ اور سٹریٹجک اتحادی سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا ہے، بلکہ عالمی برادری کی توجہ ایک اہم جغرافیائی اور معاشی خطرے (باب المندب پر حملوں) کی جانب بھی مبذول کروائی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کا یہ مؤقف بین الاقوامی قانون اور سفارتی اصولوں کے عین مطابق ہے، جس میں عسکری مہم جوئی کے بجائے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں تنازعات کے پرامن سیاسی حل کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہ حکمتِ عملی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں امن اور عالمی تجارتی گزرگاہوں کے تحفظ کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔

Related Articles