مصنوعی ذہانت کے بانی اور نوبیل انعام یافتہ ممتاز سائنسدان جیفری ہنٹن نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو رواں یا اگلے ہی برس مصنوعی ذہانت کی وجہ سے کسی بڑے سانحے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اے آئی گاڈ فادر کا کہنا ہے کہ یہ بحران بالکل چرنوبل کے حادثے جیسا ہو گا، جس کے نتیجے میں بجلی اور مالیاتی نظام عارضی طور پر مکمل طور پر مفلوج ہو سکتے ہیں۔
برطانوی اخبار ‘دی گارجیئن’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جیفری ہنٹن کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ اس ٹیکنالوجی کے معاملے میں مکمل مایوس نہیں ہیں، تاہم اندریں حالات ان کا یہی ماننا ہے کہ بہتر یہی ہوتا کہ انسانیت اس خطرناک ٹیکنالوجی کی بنیاد ہی نہ رکھتی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ممکنہ طور پر چرنوبل طرز کا کوئی بڑا واقعہ ہی دنیا کے تمام رہنماؤں کو اس ٹیکنالوجی کے چھپے ہوئے مہلک خطرات کا ادراک کرنے پر مجبور کرے گا ، ان کا اشارہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ دنیا بھر کے دیگر اہم رہنماؤں کی طرف تھا۔
اس انٹرویو کے دوران انہوں نے ٹیکنالوجی کی دنیا کے نامور ناموں مارک زکربرگ، ایلون مسک اور سیم آلٹمین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جو اس وقت اے آئی کی ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں ، جیفری ہنٹن کا یہ مؤقف ہے کہ یہ تمام بااثر شخصیات اس ٹیکنالوجی کے سنگین نتائج سے بخوبی واقف ہیں، لیکن بدقسمتی سے انہیں انسانی مفاد کے مقابلے میں اپنا مالی منافع زیادہ عزیز ہے۔
واضح رہے کہ جدید مصنوعی ذہانت کی بنیادوں میں کلیدی کردار ادا کرنے والے جیفری ہنٹن نے ماضی میں گوگل کے ساتھ طویل وابستگی رکھی تھی، لیکن جب اے آئی کے خطرات کھل کر سامنے آنے لگے تو انہوں نے ادارے کو خیرباد کہہ دیا تاکہ وہ بلا خوف و خطر دنیا کو اس کے خطرناک پہلوؤں سے آگاہ کر سکیں۔
وہ اس سے قبل بھی بارہا یہ اندیشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ اگر اے آئی سسٹمز نے خود سے اپنی زبان اور سوچنے کے انداز تشکیل دینا شروع کر دیے تو انسانیت کا ان پر سے قابو ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ مشینیں اب ایسے خطرناک خیالات پیدا کرنے لگی ہیں جنہیں سمجھنا مستقبل میں انسانوں کے بس کی بات نہیں رہے گی تاہم، جیفری ہنٹن پرامید ہیں کہ انسان فی الحال اس ٹیکنالوجی پر مکمل گرفت رکھتے ہیں، اور اگر بروقت مناسب اقدامات اٹھائے جائیں تو کسی بھی بڑے سانحے کو باآسانی ٹالا جا سکتا ہے۔