2700 فٹ گہری وادی، جہاں سورج صرف چند منٹ نظر آتا ہے

2700 فٹ گہری وادی، جہاں سورج صرف چند منٹ نظر آتا ہے

امریکی ریاست کولوراڈو میں واقع بلیک کینین آف دی گنیسن اپنی غیر معمولی گہرائی، تنگ راستوں اور بلند و عمودی چٹانی دیواروں کی وجہ سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس وادی کا نام بلیک کینین اس لیے پڑا کیونکہ یہاں موجود چٹانیں گہرے سرمئی اور سیاہ رنگ کی ہیں۔

اس وادی کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس کی تنگ ساخت اور بلند چٹانی دیواروں کے باعث سورج کی روشنی بھی اس کی گہرائی تک آسانی سے نہیں پہنچ پاتی۔ دن کے وقت بھی وادی کا بڑا حصہ تاریکی میں ڈوبا رہتا ہے، جبکہ سال کے بعض اوقات میں اس کی نچلی سطح تک سورج کی براہِ راست روشنی صرف چند منٹ کے لیے پہنچتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس وادی کی تشکیل میں لاکھوں سال لگے۔ گنیسن دریا نے مسلسل بہاؤ کے ذریعے سخت چٹانوں کو کاٹ کر یہ گہری اور تنگ وادی بنائی۔ بعض مقامات پر اس کی گہرائی 2 ہزار 700 فٹ سے بھی زیادہ ہے۔ بلندی سے نیچے دیکھنے پر تیزی سے بہتا ہوا دریا ایک باریک لکیر کی طرح دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیا بابا وانگا کی پیشگوئی سچ ہونے والی ہے؟ چین کو خلا سے پراسرار سگنل مل گیا

بلیک کینین کی تقریباً عمودی چٹانی دیواریں کوہ پیماؤں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں، جبکہ عام سیاح بھی یہاں کے تاریک، خاموش اور حیرت انگیز مناظر دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ یہ وادی اس بات کی ایک منفرد مثال ہے کہ قدرت نے لاکھوں سال کے دوران زمین کی ساخت کو کس قدر حیرت انگیز شکلیں دی ہیں۔

editor

Related Articles