وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کا کوئی وزیر شہدا کے جنازے میں شریک نہیں ہوا حالانکہ یہ پاکستان کے شہید ہیں سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن انہیں اس حد تک نہیں لے جانا چاہیے کہ قومی معاملات بھی متاثر ہوں۔
لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے حالات سب کے سامنے ہیں جبکہ صوبائی حکومت کی بے حسی بھی واضح ہے سیاسی اختلافات کو انتہا تک لے جانا کسی کے مفاد میں نہیں اور قومی معاملات پر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے۔
محسن نقوی نے پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ اور اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ باربار لانگ مارچ افورڈ نہیں کر سکتے اس بار ونس فار آل ہوگا ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی وقت ہے کہ معاملات کو بند گلی کی طرف نہ لے جایا جائے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے خبردار کیا کہ اسلام آباد پر جو بھی دھاوا بولنے کی کوشش کرے گا اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ وفاقی حکومت احتجاج یا مارچ کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گی اور اس حوالے سے مستقل لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت میں بھی اکثریت لانگ مارچ کی حامی نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس بار صورتحال پہلے جیسی نہیں ہوگی کہ احتجاج کے باعث پورا شہر بند کردیا جائے اور معمولات زندگی متاثر ہوں، بلکہ وفاقی حکومت اپنی حکمت عملی کے تحت اقدامات کرے گی۔
بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ہسپتال میں چیک اپ کے حوالے سے محسن نقوی نے بتایا کہ ان کا رات کے وقت بھی ہسپتال میں چیک اپ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاج کے لیے قانون کے مطابق جو کچھ ممکن ہوا، کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کے مطالبات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی والوں کو خود بھی معلوم نہیں کہ ان کے مطالبات کیا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے کبھی بھی ناجائز مطالبات تسلیم نہیں کرائے جا سکتے۔
محسن نقوی نے سیاسی کشیدگی کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے اپنی جگہ لیکن ملک کے امن، شہریوں کے جان و مال اور ریاستی معاملات کو سیاسی تنازعات کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت اس بار بھرپور کردار ادا کرے گی اور احتجاج یا امن و امان سے متعلق پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی اور مستقل حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ کے بیان میں ایک طرف خیبرپختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی کو اسلام آباد کی جانب مارچ اور احتجاج کے حوالے سے براہ راست تنبیہ کی گئی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان کشیدگی اور سکیورٹی انتظامات پر توجہ مرکوز ہے