دنیا بھر میں غیر معمولی چیلنجز اور بڑے منصوبوں کے لیے مشہور یوٹیوبر جمی ڈونلڈسن، جو مسٹر بیسٹ کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے اس بار ایک منفرد فلاحی منصوبے کے ذریعے توجہ حاصل کرلی۔
مسٹر بیسٹ نے افریقی ملک گھانا میں تقریباً 1 کروڑ ڈالر کی لاگت سے ایک مکمل گاؤں تعمیر کیا ہے، جس کا مقصد کوکوا کی غیر قانونی صنعت میں مزدوری کرنے والے بچوں کو مشقت سے نکال کر دوبارہ تعلیم کی طرف لانا ہے۔
اس بستی کا نام ’ابنا ڈکوا ولیج‘ رکھا گیا ہے۔ مسٹر بیسٹ کے مطابق یہ ان کے اب تک کے سب سے بڑے انسانی خدمت کے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اپنی نئی یوٹیوب ویڈیو میں منصوبے کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ گاؤں کی تعمیر کا مقصد ایسے بچوں کو بہتر ماحول فراہم کرنا ہے جو غیر قانونی مشقت کا سامنا کر رہے ہیں، تاکہ انہیں دوبارہ اسکول جانے کا موقع مل سکے۔
مسٹر بیسٹ نے انسٹاگرام پر بھی اس منصوبے کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے بچوں کو غیر قانونی مشقت سے نکالنے میں مدد کے لیے ایک ’حقیقی شہر‘ تعمیر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس منصوبے کے ممکنہ اثرات پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
300 سے زائد بچوں کے لیے اسکول
ابنا ڈکوا ولیج میں 300 سے زائد بچوں کے لیے ایک اسکول قائم کیا گیا ہے، جبکہ اساتذہ کے لیے 10 گھر بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔یہ منصوبہ صرف اسکول تک محدود نہیں رکھا گیا۔ بستی میں طبی مرکز، مارکیٹ، لائبریری، صاف پانی کی سہولت اور بچوں کے لیے تفریحی مقامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ یوں بچوں کے لیے ایسا مکمل رہائشی ماحول تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے جہاں انہیں تعلیم کے ساتھ صحت، صاف پانی اور بنیادی سہولیات بھی میسر آسکیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کی تیاری میں تقریباً ایک سال منصوبہ بندی جبکہ گاؤں کی تعمیر میں8 ماہ لگے۔ مسٹر بیسٹ کی جانب سے اس منصوبے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اسے خاصی توجہ مل رہی ہے، کیونکہ یہ ان کے معمول کے چیلنجز اور انعامی ویڈیوز سے مختلف ایک بڑے فلاحی منصوبے کے طور پر سامنے آیا ہے۔