کوہاٹ کی پرانا پولیس لائنز میں ہونے والے تباہ کن دھماکے کی تحقیقاتی رپورٹ سینٹرل پولیس آفس کو ارسال کر دی گئی ہے، جس میں 869 کلوگرام بارود کے استعمال اور گاڑی کی شناخت کا ہوشربا انکشاف ہوا ہے۔
بم ڈسپوزل یونٹ کی جانب سے واقعے کے بعد جمع کیے گئے شواہد پر مبنی تفصیلی رپورٹ اعلیٰ حکام کو بھجوا دی گئی ہے۔
اس اہم ترین رپورٹ میں دھماکے کے مرکز، بارودی مواد کی نوعیت اور اس کی مقدار کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق حملے میں 869 کلوگرام انتہائی طاقتور اور خطرناک دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔
دھماکے کی شدت کا اندازہ اس بات سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ جائے وقوعہ پر بننے والے گڑھے کا ظاہری قطر 6.6 بائی 11 فٹ جبکہ اس کی گہرائی 4.6 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔
گاڑی کی شناخت اور غیر پھٹا بارودی مواد
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی کی ابتدائی شناخت مکمل کر لی گئی ہے جس سے تفتیش کے دائرہ کار میں مزید وسعت آئے گی۔
مزید برآں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سپیشل برانچ کی عمارت کے اندر سے بھاری مقدار میں نہ پھٹنے والا مواد بھی برآمد کیا ہے۔
تلاشی کے دوران عمارت کے گراؤنڈ فلور سے 2 آئی ای ڈیز ملیں، جبکہ پہلی منزل سے ایک تیار خودکش جیکٹ برآمد ہوئی جس میں مزید 4 آئی ای ڈیز نصب تھیں۔
دہشتگردوں کی دراندازی اور کلیئرنس آپریشن
تحقیقات میں یہ اہم پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ دھماکے کے فوراً بعد حملہ آور پرانا پولیس لائنز کوہاٹ کی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے اور انہوں نے سپیشل برانچ بلاک میں اپنا ایک مضبوط مورچہ قائم کر لیا تھا۔
تاہم سیکیورٹی فورسز نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلیئرنس آپریشن مکمل کیا، جس کے بعد اب پورے علاقے کو مکمل طور پر محفوظ اور کنٹرولڈ قرار دے دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ 18 ستمبر کو کوہاٹ کے پرانا پولیس لائنز میں یہ ہولناک دھماکا ہوا تھا۔ پولیس لائنز جیسے حساس اور سخت سیکیورٹی والے علاقے کو نشانہ بنانے کا واضح مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں میں خوف و ہراس پھیلانا اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچانا تھا۔
اس واقعے کا سیکیورٹی اور صحافتی زاویے سے تجزیہ کیا جائے تو 869 کلوگرام بارودی مواد کا ایک حساس مقام تک پہنچنا سیکیورٹی چیکنگ کے نظام پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
اتنی بڑی مقدار میں بارود کی منتقلی مقامی سہولت کاروں اور ایک منظم لاجسٹک نیٹ ورک کے بغیر ممکن نہیں۔
تاہم اس حملے کا ایک مثبت پہلو سیکیورٹی فورسز کا فوری اور مؤثر ردعمل ہے۔ دہشتگردوں کی جانب سے مورچہ بند ہونے کے باوجود کامیاب کلیئرنس آپریشن اور بھاری مقدار میں غیر پھٹے مواد کو ناکارہ بنانا ایک بڑی کامیابی ہے، جس نے علاقے کو مزید کسی بڑی تباہی اور خون ریزی سے بچا لیا۔