ممکن ہے ابھی درختوں کے پتے اپنی رنگت نہ بدل رہے ہوں اور ہوا میں خزاں کی خنکی بھی محسوس نہ ہو رہی ہو، لیکن موسم خزاں کی باقاعدہ آمد ہوچکی ہے۔
ہر سال ستمبر میں شمالی نصف کرے میں اعتدال خریفی (September Equinox) واقع ہوتا ہے، جس کے بعد یہاں موسم خزاں کا آغاز ہوتا ہے، جبکہ جنوبی نصف کرے میں اسی وقت بہار شروع ہوتی ہے۔
اعتدال خریفی کیا ہوتا ہے؟
اعتدال خریفی وہ موقع ہے جب سورج اپنے ظاہری سفر کے دوران خط استوا کے اوپر پہنچتا ہے۔ اس موقع پر زمین کے دونوں نصف کرے تقریباً برابر مقدار میں سورج کی روشنی حاصل کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اعتدال خریفی کے آس پاس دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہوتا ہے۔
اس موقع پر سورج تقریباً عین مشرق سے طلوع اور عین مغرب میں غروب ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اعتدال خریفی سے پہلے سورج شمال مشرق کی سمت سے طلوع ہوتا ہے، جبکہ اس کے بعد اس کا طلوع جنوب مشرق کی سمت میں منتقل ہونے لگتا ہے۔
زمین کا جھکاؤ موسم کیسے بدلتا ہے؟
زمین سورج کے گرد گردش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے محور پر تقریباً 23.5 ڈگری جھکی ہوئی ہے۔ یہی جھکاؤ موسموں کی بنیادی وجہ ہے۔ جب زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے تو سال کے مختلف حصوں میں کبھی شمالی نصف کرے کو سورج کی زیادہ براہ راست روشنی ملتی ہے اور کبھی جنوبی نصف کرے کو۔
اسی تبدیلی کے باعث ایک خطے میں گرمی ہوتی ہے تو دوسرے خطے میں سردی کا موسم ہوتا ہے۔ اعتدال خریفی اور اعتدال ربیعی کے دوران سورج کی روشنی خط استوا پر تقریباً براہ راست پڑتی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں نصف کرے کو روشنی اور تاریکی کا تقریباً مساوی حصہ ملتا ہے۔
سال میں دو مرتبہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
زمین پر سال میں دو مرتبہ ایسا موقع آتا ہے جب دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہوتا ہے۔ ستمبر میں ہونے والے اعتدال خریفی کے بعد شمالی نصف کرے میں خزاں شروع ہوتی ہے، جبکہ جنوبی نصف کرے میں بہار آتی ہے۔
دوسری مرتبہ مارچ میں اعتدال ربیعی (Spring Equinox) ہوتا ہے۔ اس کے بعد شمالی نصف کرے میں بہار جبکہ جنوبی نصف کرے میں خزاں کا آغاز ہوتا ہے۔
کیا دن اور رات بالکل 12، 12 گھنٹے ہوتے ہیں؟
عام طور پر اعتدال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس دن دن اور رات تقریباً 12، 12 گھنٹے کے ہوتے ہیں، تاہم حقیقت میں کئی مقامات پر طلوع اور غروب آفتاب کی سائنسی تعریف اور زمین کے ماحول میں روشنی کے انعکاس کی وجہ سے دونوں کا دورانیہ بالکل برابر نہیں ہوتا۔
اعتدال اور سال کا طویل ترین یا مختصر ترین دن مختلف ہیں
اعتدال خریفی اور اعتدال ربیعی کو ان مواقع سے الگ سمجھنا چاہیے جب دن یا رات اپنے سب سے زیادہ یا کم دورانیے پر پہنچتے ہیں۔دسمبر میں شمالی نصف کرے میں سال کا مختصر ترین دن آتا ہے، جس کے بعد دن دوبارہ بتدریج لمبے ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔
جون میں اس کے برعکس شمالی نصف کرے میں سال کا طویل ترین دن آتا ہے۔یوں زمین کا معمولی سا جھکاؤ پورے سال دن رات کے دورانیے اور موسموں کی تبدیلی کا ایک بڑا سبب بنتا ہے۔