وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر یورپی کونسل اور کمیشن کے صدور سے ملاقات میں ‘جی ایس پی پلس’ کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے انہیں دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے۔
فریقین نے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر عملدرآمد اور کثیرالجہتی تجارتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
Our Strategic Engagement Plan reflects both the breadth of this partnership and the shared commitment to democracy, the rule of law, human rights and civic space.
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں کی سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ اسی تسلسل میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو لوئس سانتوس دا کوستا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا گرتروڈ وان ڈیر لیین سے ایک اہم ملاقات کی۔
اس اعلیٰ سطح کی بیٹھک میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ فریقین نے اعلیٰ سطح پر بڑھتے ہوئے باہمی روابط پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔
معاشی شراکت داری اور ‘جی ایس پی پلس
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پاکستان کی معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ‘جی ایس پی پلس’ اسٹیٹس کی افادیت پر تفصیلی بات چیت کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس فریم ورک کے تحت یورپی یونین کے ساتھ تجارتی روابط کا فروغ پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ شہباز شریف نے یورپی یونین کے ساتھ وسیع البنیاد شراکت داری کو مستحکم کرنے اور پاک یورپی یونین اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر مکمل عملدرآمد کے عزم کو دہرایا۔
ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ سطح پر مسلسل رابطے باہمی تعلقات کو وسعت دینے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
عالمی مسائل اور پرامن بقائے باہمی
اس سفارتی ملاقات میں محض دوطرفہ تعلقات ہی زیرِ بحث نہیں آئے بلکہ علاقائی اور عالمی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
رہنماؤں نے بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی تنازعات کا پرامن حل ہی موجودہ دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
دورہ پاکستان کی باضابطہ دعوت
اپنے روابط کو مزید گہرا کرنے کی غرض سے وزیراعظم شہباز شریف نے یورپی کونسل اور یورپی کمیشن کے صدور کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ باہمی مفاد پر مبنی اس مستحکم شراکت داری کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پاکستان، یورپی یونین کی قیادت کے ساتھ اپنا قریبی تعاون اسی طرح جاری رکھے گا۔
یورپی یونین 27 ممالک پر مشتمل ایک اہم تجارتی بلاک ہے، جو پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی مانا جاتا ہے۔
’جی ایس پی پلس‘ اسٹیٹس کی بدولت پاکستانی مصنوعات، خصوصاً ٹیکسٹائل کی برآمدات کو یورپی منڈیوں میں بغیر ڈیوٹی کے رسائی حاصل ہے۔
یہ تجارتی مراعات پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان ان تجارتی رعایتوں کو برقرار رکھنے کے لیے یورپی یونین کی شرائط پر عمل پیرا ہے اور یہ ملاقات اسی تسلسل کا حصہ ہے تاکہ 2027 تک موجودہ تجارتی فریم ورک کے فوائد کو یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم کی یورپی قیادت سے یہ ملاقات محض ایک رسمی مصافحہ نہیں، بلکہ پاکستان کی معاشی سفارت کاری کا ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک قدم ہے۔
موجودہ کٹھن معاشی حالات میں جب ملک کو برآمدات بڑھانے اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے، یورپی منڈیوں تک بلاتعطل رسائی انتہائی ناگزیر ہے۔
یورپی قیادت کو دورہ پاکستان کی دعوت دینا اس بات کا غماز ہے کہ اسلام آباد مغربی بلاک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید گرمجوشی بخشنا چاہتا ہے۔
یہ ملاقات عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی تنہائی کے تاثر کو زائل کرنے اور متوازن خارجہ پالیسی کو آگے بڑھانے میں اہم ثابت ہوگی۔