ملکۂ ترنم نور جہاں کی 100ویں سالگرہ پر خراج تحسین نہ ملنے پر احمد علی بٹ کا مایوسی کا اظہار

ملکۂ ترنم نور جہاں کی 100ویں سالگرہ پر خراج تحسین نہ ملنے پر احمد علی بٹ کا مایوسی کا اظہار

پاکستانی اداکار، میزبان اور ریپر احمد علی بٹ نے اپنی نانی اور برِصغیر کی عظیم گلوکارہ ملکۂ ترنم نور جہاں کی 100 ویں سالگرہ پر انہیں سرکاری سطح پر خراجِ تحسین نہ دیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

ملکۂ ترنم نور جہاں کا شمار برِصغیر کی عظیم ترین موسیقی کی شخصیات میں ہوتا ہے، پیدائش کے 100 سال بعد بھی وہ جنوبی ایشیا کی سب سے محبوب گلوکارہ ہیں ، انہوں نے اپنے شاندار کیریئر کے دوران اسی موسیقی کی بادشاہت کے شایان شان، اردو، پنجابی اور سندھی میں تقریباً 10 ہزار گیت ریکارڈ کیے۔

سنہ 1960 کی دہائی میں ان کی آواز پاکستانی شناخت کا ایک بڑا حصہ بن گئی جب انہوں نے کئی حب الوطنی کے نغمات کو اپنی آواز دی جن میں سدا بہار نغمہ اے وطن کے سجیلے جوانو بھی شامل ہے۔ آج بھی یہ نغمے لاکھوں پاکستانیوں کے لیے سکون، ہمت اور امید کا ذریعہ ہیں۔

نور جہاں کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے نواسے احمد علی بٹ نے اپنی انسٹا اسٹوری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ تو پی ٹی وی پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور نہ ہی لبرٹی چوک پر ان کے پوسٹرز آویزاں کیے گئے۔

احمد علی بٹ نے شکوہ کیا کہ میڈم نور جہاں قومی اور حکومتی سطح پر اس سے کہیں زیادہ خراجِ تحسین کی مستحق تھیں، تاہم حکومت ان کی زندگی کے اس اہم سنگِ میل کو مکمل طور پر بھول گئی۔

یہ بھی پڑھیں :کرن خان اور اشتیاق بیگ کا شادی کے بعد پہلا فیملی ڈنر، تصاویر سوشل میڈیا پروائرل

واضح رہے کہ گزشتہ روز ملکہ ترنم نورجہاں کی 100 ویں سالگرہ منائی گئی ،  ان کے گائے ہوئے گیت صرف فلمی موسیقی کا سرمایہ نہیں بلکہ برصغیر کی مشترکہ تہذیبی اور موسیقی کی میراث کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نورجہاں کو آج بھی ملکہ ترنم کہا جاتا ہے اور ان کی آواز سننے والوں کے دلوں میں پہلے کی طرح گونجتی ہے۔

editor

Related Articles