پاکستان نے افغانستان سے ہونے والی ڈرون دراندازی کے بعد افغانستان کے اندر دہشت گردوں اور ڈرون حملوں سے منسلک ٹھکانوں کے خلاف بڑی کارروائی کردی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان میں متعدد مقامات پر درست نشانہ لگانے والی فضائی کارروائی کی جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کے اہم ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی میں ان مراکز کو ہدف بنایا گیا جہاں سے پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے ڈرونز کے استعمال اور ذخیرہ کیے جانے کی اطلاعات تھیں۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران پکتیکا اور خوست اور دیگر علاقوں میں بھر پور کارروائی کی گئی جبکہ جنوبی افغانستان کے شہر قندھار میں بھی ایک زور دار دھماکے کے بعد آگ بھڑکنے کی اطلاع سامنے آئی۔ مقامی رہائشی کے مطابق دھماکے سے قبل جنگی طیارے کی آواز بھی سنی گئی۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق پاکستان نے افغانستان میں متعدد مقامات کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ مقامات ڈرونز لانچ اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔ کارروائی کو پاکستان کی جانب سے حالیہ ڈرون دراندازی کے جواب میں کیا گیا اقدام قرار دیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ روز افغانستان سے آنے والے متعدد ڈرونز کا سراغ لگا کر انہیں پاکستانی حدود میں اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد افغانستان کے اندر ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے طور پر ڈرون کارروائیاں کی جا رہی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی انتہائی درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کے ذریعے کی گئی اور دہشت گردوں کے ان مراکز کو نشانہ بنایا گیا جو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں سے منسلک تھے۔
دوسری جانب افغان ذرائع نے بھی پکتیا اور خوست میں پاکستانی فضائی کارروائی کی اطلاعات دی ہیں۔ پکتیا کے ایک مقامی عہدیدار کے مطابق صوبے میں ایک فوجی مرکز کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ہے جبکہ خوست میں بھی فضائی حملے کی اطلاع سامنے آئی، تاہم فوری طور پر جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
قندھار میں کارروائی کی اطلاعات اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ یہ شہر طالبان حکومت کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ مقامی رہائشی کے مطابق قندھار میں جنگی طیارے کی آواز کے بعد زور دار دھماکا ہوا اور ایک مقام پر آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے اپنی سرزمین پر حملوں کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، جبکہ افغان طالبان پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
رواں ہفتے بھی پاکستان نے افغانستان کے مشرقی صوبوں پکتیکا اور کنڑ میں کارروائی کی تھی۔ پاکستانی حکام نے اس کارروائی میں 28 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ افغان حکام اور اقوام متحدہ نے تین شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔
تازہ کارروائی کے بعد پاک افغان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے اور سرحدی علاقوں کے ساتھ افغانستان کے اندر بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے