پی ٹی آئی نے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے لاتعلقی او رسہولت کاری کے سوا کچھ نہیں کیا ،خواجہ آصف

پی ٹی آئی نے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے لاتعلقی او رسہولت کاری  کے سوا کچھ نہیں کیا ،خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں امن و امان، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور وفاقی اداروں کے ساتھ صوبائی حکومت کے تعلقات پر اہم سوالات اٹھا دیے۔
 خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کو محض سیاسی احتجاج اور لانگ مارچ کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے دہشت گردی، حکمرانی اور آئینی ذمہ داریوں کے اصل مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبرپختونخوا کو صرف پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں، احتجاج یا لانگ مارچ کے تناظر میں دیکھنا اصل مسئلے سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔

خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ ایک صوبائی حکومت کی جانب سے وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کی کوششیں کب تک جاری رہیں گی اور صوبائی حکومت پر براجمان جماعت وفاقی اداروں کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی کب تک جاری رکھے گی؟ ان کا کہنا تھا کہ اس طرزِ سیاست کے نتائج پر بھی غور کرنا ہوگا۔

وزیر دفاع نے خیبرپختونخوا میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا صوبائی حکومت نے اس چیلنج کے مقابلے میں اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریاں پوری کی ہیں؟

خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر سنگین الزامات بھی عائد کیے اور دعویٰ کیا کہ صوبے میں حکومت کا ایجنڈا ذاتی اور گروہی مفادات تک محدود رہا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے مبینہ لاتعلقی اور دہشت گردوں کو بھتے کی صورت میں مالی وسائل کی فراہمی انتہائی سنگین معاملہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہداء کے جنازوں میں صوبائی حکومت کی عدم موجودگی، شہداء کے اہلِ خانہ سے یکجہتی، پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد میں اضافے، دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات اور ضم شدہ اضلاع میں گورننس جیسے معاملات بھی زیرِ غور آنے چاہییں۔

وزیر دفاع کے مطابق امن و امان، انسدادِ دہشت گردی، مؤثر حکمرانی، وفاقی استحکام اور آئینی و قانونی تقاضوں کی تکمیل قومی ایجنڈا ہونا چاہیے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کی ترجیح ایک شخص یا گروہی مفادات کا حصول ہے یا وطن عزیز کے قومی ایجنڈے کی تکمیل۔

 وزیر دفاع نے اپنے بیان میں خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کی ترجیحات، امن و امان کی صورتحال اور وفاق کے ساتھ تعلقات کو قومی سطح پر زیرِ بحث لانے کی ضرورت پر زور دیا۔

editor

Related Articles