مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عسکری سربراہان کا اجلاس،دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عسکری سربراہان کا  اجلاس،دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

 آئی ایس پی آر کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیفس آف جنرل اسٹاف کا اہم اجلاس سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقد ہوا، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی۔

یہ اجلاس جمعہ 25 ستمبر 2026 کو منعقد ہوا، جس میں تینوں ممالک کی عسکری قیادت نے سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی صورتحال اور موجودہ خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

 آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس کے شرکا نے مکہ مکرمہ، شہری آبادی اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت کی۔ عسکری حکام نے سعودی عرب کی سلامتی کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے عوام کے تحفظ اور اہم تنصیبات کی سکیورٹی یقینی بنانے کی کوششوں کو سراہا۔

 یہ بھی پڑھیں :فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران مکمل ، ایرانی صدر اور اعلی حکام سے اہم ملاقاتیں، آئی ایس پی آر

شرکا نے سعودی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، الرٹ رہنے اور سکیورٹی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دینے کو بھی سراہا۔ اجلاس میں سعودی عوام کے تحفظ اور مملکت کی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تعریف کی گئی۔

 اجلاس کے دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مسلح افواج کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا۔ شرکا نے باہمی تعاون کے موجودہ طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانے اور تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کے درمیان رابطہ بڑھانے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔

عسکری حکام نے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مزید بہتر بنانے، فوجی رابطہ کاری میں اضافہ کرنے اور دفاعی صلاحیتوں کو باہم مربوط کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ ان اقدامات کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور ممکنہ خطرات کے مقابلے کے لیے باہمی تیاری کو بہتر کرنا ہے۔

 اجلاس میں اس امر پر بھی توجہ دی گئی کہ تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان رابطہ اور تعاون کو عملی سطح پر مزید مضبوط کیا جائے۔ شرکا کے مطابق بہتر انٹیلی جنس شیئرنگ، مؤثر عسکری رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کے باہمی انضمام سے مشترکہ دفاعی تیاری میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

عسکری حکام نے دفاعی تعاون کے ذریعے خطے میں خطرات سے نمٹنے اور تینوں ممالک کی مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

 آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس کے شرکا نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عوام اور مسلح افواج کے درمیان موجود دیرینہ دوستانہ تعلقات اور باہمی اعتماد کو بھی سراہا۔

 یہ بھی پڑھیں :فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے امریکی کانگریس کے وفد کی ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال، آئی ایس پی آر

شرکا نے قرار دیا کہ ریاض میں تینوں ممالک کی عسکری قیادت کا اجلاس باہمی دفاعی شراکت داری کی اہمیت اور مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔ اجلاس کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو عملی دفاعی تعاون میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔

 تینوں ممالک کے عسکری سربراہان نے اجتماعی دفاع کے عزم کا بھرپور اعادہ کیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مشترکہ ذمہ داری اور تعاون کو عملی شکل دی جائے گی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں شریک عسکری قیادت نے تینوں ممالک کے مشترکہ دفاعی عزم کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کے تحفظ اور سلامتی کے لیے اپنے عزم کی تجدید کی۔

ریاض میں ہونے والا یہ اجلاس پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی روابط کو مزید منظم کرنے اور مشترکہ سکیورٹی تعاون کو عملی سطح پر آگے بڑھانے کے حوالے سے اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

editor

Related Articles