عالمی وباء معاہدہ منظور، اسحاق ڈار کا اہم ردعمل سامنے آگیا

عالمی وباء معاہدہ منظور، اسحاق ڈار کا اہم ردعمل سامنے آگیا

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی صحت کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے عالمی وباء سے متعلق معاہدے کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کسی بھی عالمی وبائی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان تعاون، باہمی رابطے اور مشترکہ حکمت عملی کو مزید مستحکم کرنا ضروری ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات، اسحاق ڈار کی اہم ملاقات میں بڑا اتفاق

اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کورونا وائرس کی وباء کے دوران پاکستان کی جانب سے اختیار کیے گئے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وباء سے نمٹنے کے لیے حکومت نے مختلف شعبوں کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت شامل کیا، جس میں صحت عامہ کے اقدامات کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ اور معاشی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کی کوششیں بھی شامل تھیں۔

نائب وزیراعظم کے مطابق کورونا کے دوران صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن، ٹیسٹنگ اور سماجی تحفظ جیسے اقدامات پر توجہ دی گئی۔ ان کے مطابق وباء جیسے بحران میں صرف طبی اقدامات کافی نہیں ہوتے بلکہ حکومت کے مختلف اداروں اور معاشرے کے متعدد شعبوں کے درمیان مربوط تعاون بھی ضروری ہوتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نیویارک روانہ

اسحاق ڈار نے ترقی پذیر ممالک کو وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے درکار وسائل کی فراہمی پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ محدود وسائل رکھنے والے ممالک کو عالمی سطح پر مالی معاونت اور ضروری سہولیات تک رسائی ملنی چاہیے تاکہ وہ کسی بھی ہنگامی صحت کے بحران کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔

انہوں نے اس بات کی اہمیت اجاگر کی کہ عالمی صحت کے نظام میں ایسے ممالک کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے جو بڑے پیمانے پر طبی اور مالی وسائل دستیاب نہ ہونے کے باعث وباؤں کے دوران زیادہ مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔

نائب وزیراعظم نے ویکسین اور دیگر ضروری طبی سہولیات تک منصفانہ رسائی کو بھی عالمی وباؤں سے نمٹنے کی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق کسی بھی وباء کے دوران علاج، ویکسین اور طبی وسائل کی دستیابی صرف چند ممالک تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ تمام ممالک کو مناسب اور بروقت رسائی حاصل ہونی چاہیے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ صحت عامہ کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ایسا نظام تشکیل دیا جائے جس میں وسائل کی تقسیم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور طبی پیداوار کے شعبوں میں وسیع تر تعاون ممکن ہو۔

اسحاق ڈار نے ترقی پذیر ممالک میں مستقل پیداواری صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق وبائی بحران کے دوران بیرونی ذرائع پر مکمل انحصار کئی ممالک کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ مختلف ممالک میں ادویات، ویکسین اور دیگر طبی ضروریات کی مقامی پیداوار کی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے۔

انہوں نے عالمی سطح پر کثیرالجہتی ردعمل کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ مستقبل میں کسی نئی وباء کی صورت میں ممالک انفرادی اقدامات کے بجائے مشترکہ حکمت عملی کے تحت مؤثر کارروائی کر سکیں۔

 یہ بھی پڑھیں :افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی قابل تشویش ، طالبان عالمی ذمہ داریاں پوری کریں ، اسحاق ڈار

عالمی وباء سے متعلق معاہدے کی منظوری کو صحت عامہ کے عالمی نظام میں تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسحاق ڈار کی جانب سے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے ویکسین کی مساوی رسائی، ترقی پذیر ممالک کی معاونت اور طبی پیداواری صلاحیت میں اضافے پر زور دیا گیا۔

پاکستانی مؤقف میں اس بات کو نمایاں کیا گیا کہ مستقبل کی وباؤں کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے عالمی سطح پر مربوط منصوبہ بندی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ممالک کے درمیان مسلسل تعاون ضروری ہے۔ اس حوالے سے عالمی اداروں اور قومی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطہ آئندہ صحت کے بحرانوں سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

editor

Related Articles