وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو گزشتہ سال کی طرح بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امن ہمیشہ پاکستان کی اولین ترجیح رہی تاہم ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم کے خطاب کے بعد پاکستانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم نے بین الاقوامی برادری سے جامع انداز میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق خطے میں امن کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ پاکستان کسی تنازع کو ہوا دینے کے بجائے امن اور استحکام کا خواہاں ہے۔
تاہم، خواجہ آصف نے واضح کیا کہ اگر پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو ملک اپنے دفاع میں بھرپور کارروائی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان نے جس طرح جواب دیا تھا، آئندہ بھی اسی انداز میں دفاع کیا جائے گا۔
خواجہ آصف نے بھارت کے رویے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کے طرزِ عمل سے کسی اچھے رویے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
انہوں نے بھارت کو پاکستان کا ازلی دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کے موجودہ رویے کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
وزیر دفاع نے اس موقع پر بھارت کے لیے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سلامتی کے معاملے میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
خواجہ آصف نے سابق حکومتوں کی افغان پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں جو پالیسیاں اختیار کی گئیں ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل موجودہ حکومت کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سابق حکومتوں کی افغان پالیسی میں بوئے گئے کانٹوں کو موجودہ حکومت چن رہی ہے۔ وزیر دفاع نے اس پالیسی کے اثرات کو پاکستان کو درپیش موجودہ چیلنجز سے جوڑا۔