بھارتی عوام نے نظام کے خلاف بغاوت کردی؟ سڑکوں پر بڑا احتجاج شروع

بھارتی عوام نے نظام کے خلاف بغاوت کردی؟ سڑکوں پر بڑا احتجاج شروع

بھارتی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر بھارت میں احتجاج شدت اختیار کرگیا، نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے مظاہرے کے دوران پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار عہدے سے مستعفی ہوں اور انتخابی فہرستوں کی نظرثانی سے متعلق تنازعے پر وضاحت پیش کی جائے۔

جنتر منتر پر احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے احتجاج کے لیے مطلوبہ اجازت حاصل نہیں کی تھی، جبکہ نئی دہلی ضلع میں پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر بھی پابندی عائد تھی۔ پولیس کارروائی کے دوران کم از کم 60 افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

حراست میں لیے جانے والوں میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی رہنما نیہا بورا، سیاسی تجزیہ کار یوگیندر یادو، سماجی کارکن پرشانت بھوشن اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے رہنما دیپانکر بھٹاچاریہ سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔ احتجاج میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی، جسے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کہا جارہا ہے، کے خلاف بھی نعرے لگائے گئے۔

احتجاج کے دوران صحافی اور دی وائر کے اسپیشل کورسپانڈنٹ محمد عرفان کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بعض رپورٹس میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان دھکم پیل اور پولیس کی جانب سے مارچ کو روکنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شہباز شریف لندن پہنچیں گے، دو سے تین روز قیام کے دوران کیا کریں گے؟

بھارت میں الیکشن کمیشن سے متعلق حالیہ تنازعے کا ایک اہم پہلو بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس کی خصوصی رپورٹ ہے، جس میں الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی جانب سے انتخابی فہرستوں اور ووٹر ڈیٹا سے متعلق بعض اقدامات پر اعتراضات کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 ماہ کے دوران دونوں الیکشن کمشنرز نے کم از کم 14 مواقع پر انتخابی فہرستوں، نئے ووٹرز کے اندراج، ووٹر ڈیٹا تک رسائی اور متعلقہ عمل سے متعلق فیصلوں پر اعتراضات ریکارڈ کرائے۔ رپورٹ میں بعض اعتراضات کو الیکشن کمشنرز کی جانب سے سخت الفاظ میں اٹھائے جانے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

ان اعتراضات کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ ہوا کہ بعض فیصلوں اور اقدامات کے بارے میں دونوں الیکشن کمشنرز کو مکمل طور پر آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم بھارتی الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ ادارے میں افسران کے درمیان اختلافِ رائے معمول کی بات ہے اور کمیشن کے تمام اقدامات قانون کے مطابق ہیں۔

بھارتی اپوزیشن کی جانب سے بھی انتخابی فہرستوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن کو تنقید کا سامنا ہے۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی پہلے ہی انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزامات عائد کرچکے ہیں، جبکہ دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی SIR کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر اعتراضات کا اظہار کیا ہے۔ یہ الزامات سیاسی جماعتوں کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں اور بھارتی الیکشن کمیشن ان کے بعض دعووں سے اختلاف کرتا ہے۔

دوسری جانب خود کو کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کہنے والی نوجوان تنظیم نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو استعفے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ تنظیم کے بانی ابھجیت دپکے نے اعلان کیا ہے کہ اگر گیانیش کمار مستعفی نہ ہوئے تو 2 اکتوبر سے ممبئی سے ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا، جسے بعد ازاں بھارت کے مختلف شہروں تک پھیلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ تنظیم نے اس معاملے پر ملک گیر مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہی گروپ اس سے قبل نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرچکا ہے اور اس احتجاج کے دوران بھی بڑی تعداد میں افراد شریک ہوئے تھے۔ اب تنظیم نے ممبئی سے ممکنہ ملک گیر احتجاج شروع کرنے کی تاریخ 2 اکتوبر مقرر کی ہے۔

یوں بھارت میں الیکشن کمیشن کی کارکردگی، انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور ووٹر ڈیٹا کے معاملے پر سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور مختلف گروہوں کے اعتراضات کے باعث تنازع بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ الیکشن کمیشن اپنے اقدامات کو قانونی قرار دے رہا ہے۔ تازہ احتجاج کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ ایک بار پھر مرکزِ بحث بن گیا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles