26 ارب روپے سے زائد ٹیکس ڈیفالٹ، ایف بی آر کا بحریہ گالف سٹی کی 32 کنال جائیداد نیلام کرنے کا اعلان

26 ارب روپے سے زائد ٹیکس ڈیفالٹ، ایف بی آر کا بحریہ گالف سٹی کی 32 کنال جائیداد نیلام کرنے کا اعلان

اسلام آباد ( شہزاد رضا) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تقریباً 26.4 ارب روپے کے ٹیکس واجبات کی وصولی کے لیے بحریہ گالف سٹی راولپنڈی میں 32 کنال 11 مرلہ اراضی اور اس پر قائم گھر کو نیلام کرنے کا اعلان کردیا۔

ایف بی آر کے لارج ٹیکس پیئرز آفس (ایل ٹی او) اسلام آباد کی جانب سے جاری پبلک آکشن نوٹس کے مطابق نیلامی میں بحریہ گالف سٹی، موضع سلکھتر، تحصیل و ضلع راولپنڈی میں پلاٹ نمبر 1، اسٹریٹ نمبر R2A پر واقع 32 کنال 11 مرلہ اراضی کے ساتھ تعمیر شدہ مکان/بلٹ اپ ایریا شامل ہے۔

نوٹس کے مطابق مذکورہ جائیداد کی نیلامی 6 اکتوبر 2026 کو ہوگی۔ کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور انکم ٹیکس رولز 2002 کے تحت ٹیکس واجبات کی وصولی کے لیے کی جارہی ہے۔ ایف بی آر کے انکم ٹیکس ریکوری فریم ورک میں منسلک غیر منقولہ جائیداد کو مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت پبلک آکشن یا ٹینڈر کے ذریعے فروخت کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

یہ پیش رفت بحریہ ٹاؤن سے متعلق ایف بی آر کی ٹیکس وصولی کی کارروائیوں کے تسلسل میں سامنے آئی ہے۔ 2025 میں ایف بی آر نے ٹیکس ایئرز 2020 اور 2022 سے متعلق ٹیکس ڈیمانڈز کی وصولی کے لیے بحریہ ٹاؤن کے خلاف انفورسمنٹ اقدامات تیز کیے تھے۔

اس سلسلے میں ایف بی آر نے بحریہ ٹاؤن سے منسلک دیگر بڑے اثاثوں کے خلاف بھی کارروائی کی۔ مری میں 527 کنال 10 مرلہ اراضی کو ٹیکس واجبات کی وصولی کے لیے متعدد مرتبہ نیلامی کے عمل میں شامل کیا گیا، جس کے بعد جولائی 2026 میں مذکورہ جائیداد کی نیلامی کردی گئی۔

اس سے قبل ایف بی آر نے اسلام آباد کے پارک روڈ پر واقع بحریہ ٹاؤن کی ایک جائیداد بھی نیلام کی تھی، جس سے تقریباً 2.05 ارب روپے حاصل ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بحریہ انکلیو اسلام اباد غیر قانونی قرار بحریہ انکلیو ہیڈ کوارٹر ہنگامی بنیادوں پر سیل کرنے کا حکم جاری

بحریہ ٹاؤن کے ٹیکس معاملات کی رپورٹنگ میں رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز کی آمدن کے تعین کے طریقہ کار سے متعلق سپریم کورٹ کے مارچ 2025 کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ مقدمہ M/s Emaar DHA Islamabad v. CIR میں عدالت عظمیٰ نے ڈویلپرز کی جانب سے پلاٹس کی فروخت میں percentage-of-completion method کے استعمال سے متعلق معاملے پر فیصلہ دیا تھا۔ بعد ازاں بحریہ ٹاؤن سے متعلق ٹیکس کارروائیوں کی بعض رپورٹس میں ٹیکس اسیسمنٹس کو ڈویلپرز کی آمدن کے حساب کے اس طریقہ کار سے جوڑا گیا۔

دوسری جانب بحریہ ٹاؤن کی بعض جائیدادوں کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی کارروائیاں بھی الگ نوعیت کی ہیں۔ جون 2025 میں نیب نے پلی بارگین سے پیدا ہونے والی رقوم کی وصولی کے لیے 6 جائیدادوں کی نیلامی کا اعلان کیا تھا، جن میں پارک روڈ، راولپنڈی میں بحریہ ٹاؤن کے کارپوریٹ دفاتر، اسلام آباد میں روبائش مارکی اور لان، ارینا سنیما، بحریہ ٹاؤن انٹرنیشنل اکیڈمی اور سفاری کلب شامل تھے۔ یہ کارروائی قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 33-E کے تحت کی گئی تھی۔

ایف بی آر کی جانب سے 6 اکتوبر کو مجوزہ نیلامی تاہم نیب کی کارروائیوں سے مختلف ہے۔ نیب کی نیلامیاں احتسابی کارروائی اور پلی بارگین سے متعلق واجبات کی وصولی کے تناظر میں کی گئی تھیں، جبکہ بحریہ گالف سٹی کی مذکورہ جائیداد کی مجوزہ فروخت ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس واجبات کی وصولی کا عمل ہے۔

ایف بی آر کے نوٹس میں ٹیکس ڈیفالٹ کی رقم تقریباً 26.4 ارب روپے بتائی گئی ہے، جبکہ نیلامی کے لیے پیش کی جانے والی جائیداد 32 کنال 11 مرلہ اراضی اور اس پر موجود تعمیر شدہ مکان/بلٹ اپ ایریا پر مشتمل ہے جو بحریہ گالف سٹی، موضع سلکھتر، راولپنڈی میں واقع ہے۔

6 اکتوبر کو ہونے والی نیلامی کے نتیجے میں جائیداد کی منتقلی کا حتمی فیصلہ اہل بولی موصول ہونے اور ٹیکس حکام کی جانب سے اسے قبول اور منظور کیے جانے کے بعد ہوگا۔ ایف بی آر کے مطابق کارروائی متعلقہ انکم ٹیکس ریکوری قوانین کے تحت لارج ٹیکس پیئرز آفس اسلام آباد کی نگرانی میں ہوگی۔

Related Articles