قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 168 میں خالی ہونے والی نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل سخت سکیورٹی میں جاری ہے، جس میں 20 امیدوار مدمقابل ہیں۔ اس حلقے کے 4 لاکھ 83 ہزار سے زیادہ ووٹرز شام 5 بجے تک اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
اس اہم حلقے میں کل 20 امیدوار قسمت آزما رہے ہیں، تاہم اصل اور کڑا مقابلہ مسلم لیگ ن اور ایک مضبوط آزاد امیدوار کے درمیان تصور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن نے اس معرکے کے لیے ملک منیر اقبال چنڑ پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب سابق وفاقی وزیر چودھری طارق بشیر چیمہ کے صاحبزادے ولی داد چیمہ آزاد امیدوار کے طور پر انتخابی اکھاڑے میں اترے ہیں، جس نے اس انتخاب کو انتہائی دلچسپ بنا دیا ہے۔
قومی اسمبلی کی یہ نشست مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما ملک محمد اقبال چنڑ کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ ان کی وفات کے بعد مسلم لیگ ن نے ان کے بیٹے ملک منیر اقبال چنڑ کو میدان میں اتارا ہے، تاکہ ہمدردی کا ووٹ حاصل کیا جا سکے اور اس نشست پر پارٹی کا تسلط برقرار رکھا جائے۔
آبادی، ووٹرز اور پولنگ کا عمل
اس حلقے کی کل آبادی 9 لاکھ 37 ہزار 95 نفوس پر مشتمل ہے۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہاں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 4 لاکھ 83 ہزار 143 ہے۔
ان میں 2 لاکھ 48 ہزار 529 مرد اور 2 لاکھ 34 ہزار 614 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ شفاف اور منظم پولنگ کے لیے حلقے بھر میں مجموعی طور پر 292 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جن میں 130 مردوں اور 130 خواتین کے لیے مختص ہیں، جبکہ 32 مشترکہ پولنگ سٹیشنز بنائے گئے ہیں۔ ووٹرز کی سہولت کے لیے کل 896 پولنگ بوتھس قائم کیے گئے ہیں۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات
پرامن، شفاف اور بلا تعطل انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
حلقے کے تمام پولنگ سٹیشنز اور حساس مقامات پر 3 ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، کسی بھی ہنگامی یا ناخوشگوار صورتحال سے فوری نمٹنے کے لیے پاک فوج اور رینجرز کی ایک، ایک کمپنی بھی بطور ریزرو فورس موجود رہے گی۔ پولنگ کا عمل آج صبح 8 بجے شروع ہوا ہے جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا۔
انتخابی صورتحال کا جائزہ
اس حلقے کا انتخابی منظر نامہ روایتی اور خاندانی سیاست کا ایک واضح عکس پیش کر رہا ہے۔ ایک طرف مسلم لیگ ن اپنے مرحوم رہنما کی نشست بچانے کی کوشش میں ہے، تو دوسری طرف ایک اور مضبوط سیاسی گھرانے کے چشم و چراغ آزاد حیثیت میں میدان میں آ کر حکومتی ووٹ بینک میں نقب لگانے کے لیے کوشاں ہیں۔
یہ الیکشن محض ایک نشست کا فیصلہ نہیں کرے گا، بلکہ اس بات کا بھی تعین کرے گا کہ آیا ووٹرز پارٹی کے انتخابی نشان کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر مقامی سطح پر اثر و رسوخ رکھنے والی مضبوط سیاسی شخصیات پر اعتماد کرتے ہیں۔ ایک قد آور سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے آزاد امیدوار کی مضبوط مہم نے مسلم لیگ ن کے لیے اس مقابلے کو ایک کڑا امتحان بنا دیا ہے۔