اسلام آباد اور لاہور میں انٹرنیٹ بریک ڈاؤن، موبائل نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل پیمنٹ ایپس بند

اسلام آباد اور لاہور میں انٹرنیٹ بریک ڈاؤن، موبائل نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل پیمنٹ ایپس بند

اسلام آباد اور لاہور میں اتوار کو انٹرنیٹ سروسز اچانک معطل ہونے سے موبائل نیٹ ورکس، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل بینکنگ کا نظام بری طرح بیٹھ گیا ہے۔ متعلقہ حکام اور ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے اس وسیع پیمانے پر ہونے والی بندش کی تاحال کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

ملک کے 2 اہم ترین شہروں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومت لاہور میں اتوار کو عوام کو اس وقت شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب اچانک انٹرنیٹ سروسز معطل ہو گئیں۔ 

رپورٹ کے مطابق اس خلل نے ملک کی کئی بڑی ٹیلی کام کمپنیوں کے موبائل انٹرنیٹ نیٹ ورکس کو شدید متاثر کیا ہے۔ صارفین کی بڑی تعداد نے شکایات کی ہیں کہ جاز، یوفون، زونگ، ٹیلی نار اور پی ٹی سی ایل کی جانب سے فراہم کردہ انٹرنیٹ سروسز کام نہیں کر رہیں، جس کے باعث وہ موبائل ڈیٹا سروسز تک رسائی سے یکسر محروم ہو گئے ہیں۔

ڈیجیٹل ادائیگیاں اور سوشل میڈیا متاثر

اس اچانک ڈیجیٹل بریک ڈاؤن کا اثر صرف رابطوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے مالیاتی نظام کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیرکے دارلحکومت مظفرآباد میں معمولات زندگی لوٹ آئے، طویل انتظار کے بعد انٹرنیٹ سروس بھی بحال

انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث موبائل بینکنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی معروف ایپلی کیشنز، جن میں ’ایزی پیسہ‘ اور ’جاز کیش‘ سرِفہرست ہیں، مکمل طور پر ٹھپ ہو گئی ہیں۔

شہری روزمرہ کی خریداری اور رقوم کی منتقلی کے لیے ان ایپس پر انحصار کرتے ہیں، تاہم کنیکٹیویٹی کے مسائل برقرار رہنے سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی اس بندش کی زد میں آئے ہیں، اور لوگ مختلف ایپس کو استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔

متعلقہ حکام کی پراسرار خاموشی

انٹرنیٹ سروسز میں اس وسیع پیمانے پر تعطل کی اصل وجہ تاحال نامعلوم ہے۔ اس خبر کے فائل کیے جانے تک نہ تو ٹیلی کام آپریٹرز کی جانب سے کوئی وضاحتی بیان سامنے آیا ہے اور نہ ہی متعلقہ سرکاری حکام نے اس خرابی کی کوئی تکنیکی وجہ بیان کی ہے، جس سے صارفین میں تشویش پائی جاتی ہے۔

پاکستان میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران انٹرنیٹ سروسز میں تعطل کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ماضی قریب میں سب میرین کیبلز میں خرابی، تکنیکی مسائل یا بعض اوقات سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر سروسز کو عارضی طور پر سست یا بند کیا جاتا رہا ہے۔

تاہم بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک سروسز کا غائب ہو جانا شہریوں کے لیے ہمیشہ ہنگامی نوعیت کے مسائل پیدا کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روزمرہ کے بیشتر معاملات کا انحصار ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر ہے۔

موجودہ جدید ڈیجیٹل دور میں انٹرنیٹ محض ایک تفریحی سہولت نہیں رہا بلکہ یہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ دو بڑے شہروں میں انٹرنیٹ کی بندش دراصل ہزاروں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں، فری لانسرز اور ای کامرس سے وابستہ افراد کی روزی روٹی پر براہِ راست وار ہے۔

مزید پڑھیں:پورے انٹرنیٹ کو ہائی جیک کرنے کا خدشہ، اے آئی کے خطرات پر نئی وارننگ

ڈیجیٹل والٹس جیسے کہ جاز کیش اور ایزی پیسہ کا بند ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارا کیش لیس اکانومی کا خواب تکنیکی خامیوں کے باعث کس قدر غیر محفوظ ہے۔

حکام کی جانب سے بروقت معلومات فراہم نہ کرنا سست روی اور غیر پیشہ ورانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس طرح کے مسلسل بلیک آؤٹس نہ صرف مقامی سطح پر کاروباری اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں، بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے حوالے سے انتہائی منفی تاثر چھوڑتے ہیں۔

ٹیلی کام سیکٹر کے ریگولیٹرز کو چاہیے کہ وہ ہنگامی صورتحال کے لیے ایک ایسا متبادل نظام وضع کریں تاکہ کروڑوں صارفین کو مکمل ڈیجیٹل اندھیرے سے بچایا جا سکے۔

Related Articles