سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی کی کوئی خاص تیاری نہیں تھی، جبکہ تاریخ تبدیل ہونے سے پارٹی کو سیاسی نقصان پہنچا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھایا جائے تو وہ مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہوگی انہوں نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں وزیراعلیٰ کی رٹ نہ ہونے کے باعث وزرا، اراکین اسمبلی اور پارٹی کارکنوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے حکم ملا تو وہ دوبارہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے حکم پر ہی وزارت اعلیٰ چھوڑی تھی۔
سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا پارٹی کے فیصلہ سازوں کا کام ہے، اس حوالے سے حتمی فیصلہ بھی وہی کریں گے،علی امین گنڈاپور نے کہا کہ رکاوٹوں اور مزاحمت کے باوجود وہ احتجاج کے دوران تین مرتبہ اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کے درمیان خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی،علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ہماری ایک ہی پارٹی ہے اور ہم پختون ہیں، اس لیے گھر آنے والے مہمان کی قدر کرتے ہیں۔