18 سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد پہلے شناختی کارڈ کے حصول کیلئے عام طور پر والدین کی بائیومیٹرک تصدیق اہم سمجھی جاتی ہے۔
تاہم اگر کسی نوجوان کے والدین موجود نہ ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ شناختی کارڈ بنوانے کا عمل رک جائے گا۔ نادرا نے ایسی صورتحال میں اہل بھائی کے ذریعے تصدیق سے متعلق اہم وضاحت کردی ہے۔
یہ وضاحت ان خاندانوں کیلئے خاص طور پر اہم ہے جہاں نوجوان کی عمر 18 سال ہوچکی ہے لیکن کسی وجہ سے شناختی کارڈ بنوانے کے وقت والد یا والدہ موجود نہیں ہوتے۔
والدین نہ ہوں تو کیا ہوگا؟
نادرا کے ترجمان سید شباہت علی نے ایک پوڈ کاسٹ میں شہریوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ پہلے شناختی کارڈ کیلئے بہتر طریقہ یہی ہے کہ درخواست گزار کے والد یا والدہ میں سے کوئی ایک اس کی درخواست کی تصدیق کیلئے موجود ہو۔
تاہم والدین کی عدم موجودگی میں شناختی کارڈ بنوانے کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوجاتا۔ مخصوص شرائط پوری ہونے کی صورت میں خاندان کا اہل بھائی بھی تصدیق کے عمل میں معاونت کرسکتا ہے۔
بھائی کی تصدیق کب ہوگی؟
نادرا کے مطابق اگر درخواست گزار کا بھائی پہلے سے والدین کے فیملی ٹری میں موجود ہے اور شناختی کارڈ بنوانے والے نوجوان کا ب فارم بھی فیملی ٹری میں درج ہے تو بھائی درخواست گزار کے ساتھ جاکر اس کی درخواست کی تصدیق کرسکتا ہے۔
یعنی صرف بھائی ہونا کافی نہیں بلکہ نادرا کے ریکارڈ میں خاندانی تعلق کا موجود ہونا بھی ضروری ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد درخواست گزار کی شناخت اور خاندانی ریکارڈ کو نادرا کے ڈیٹا سے مطابقت دینا ہے۔
ب فارم بھی اہم
نادرا نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر نوجوان کا ب فارم پہلے سے بنا ہوا ہے تو پہلے شناختی کارڈ کیلئے درخواست پاک آئی ڈی ایپلی کیشن کے ذریعے بھی جمع کرائی جاسکتی ہے۔
اس صورت میں شہری کیلئے ضروری ہے کہ درخواست دینے سے پہلے نادرا کے ریکارڈ میں موجود اپنی خاندانی معلومات کا جائزہ لے۔
اگر ب فارم اور فیملی ٹری کی معلومات درست اور مکمل ہوں تو درخواست کے عمل میں غیرضروری مشکلات سے بچا جاسکتا ہے۔
شہریوں کیلئے اہم وضاحت
نادرا کی وضاحت سے واضح ہوتا ہے کہ والدین کی عدم موجودگی میں 18 سال مکمل کرنے والے نوجوان کیلئے پہلے شناختی کارڈ کا حصول ناممکن نہیں۔
اگر متعلقہ خاندانی ریکارڈ نادرا کے پاس موجود ہو اور مقررہ شرائط پوری ہوتی ہوں تو فیملی ٹری میں درج بھائی تصدیق کے عمل میں کردار ادا کرسکتا ہے۔
شہریوں کو درخواست دینے سے پہلے ب فارم اور فیملی ٹری کی معلومات درست ہونے کو یقینی بنانے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔ اس سے شناختی دستاویز کے حصول کے عمل میں ممکنہ رکاوٹوں کو کم کیا جاسکتا ہے۔