پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ مذاکرات کے پہلے روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کسٹمز اور انکم ٹیکس سے متعلق امور پر آئی ایم ایف مشن کو بریفنگ دی۔
سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے کے قانون اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی تفصیلات فراہم کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں پاکستان کی جانب سے سول سرونٹس کے اثاثوں سے متعلق قانون سازی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ سول سرونٹس ایکٹ میں نئی دفعہ 15 اے شامل کی جاچکی ہے جس کے تحت سرکاری افسران کے مالی معاملات سے متعلق نگرانی اور ضابطہ کاری کیلئے قانونی بنیاد فراہم کی گئی ہے۔
افسران کے اثاثے ویب سائٹ پر
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن کو بتایا گیا کہ نئی قانونی شق کے تحت حکومت سرکاری ملازمین کے مالی طرز عمل کو ریگولیٹ اور مانیٹر کرسکے گی۔ اس کے علاوہ سرکاری افسران کے اثاثوں سے متعلق تفصیلات ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہوں گی۔
حکام نے مشن کو بتایا کہ گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے سرکاری افسران اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے۔
اس اقدام کا مقصد اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز افسران کے مالی معاملات میں شفافیت سے متعلق قانونی تقاضوں پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔
کسٹمز اور انکم ٹیکس پر بھی بات چیت
مذاکرات کے پہلے روز ایف بی آر نے کسٹمز اور انکم ٹیکس کے شعبوں سے متعلق امور پر بھی آئی ایم ایف مشن کو بریفنگ دی۔ بات چیت میں پاکستان کے محصولات کے نظام اور اس سے متعلق مختلف معاملات کا جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سمیت مختلف حکومتی اداروں کے حکام سے معیشت کے متعدد پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔
اسٹبلشمنٹ ڈویژن کے علاوہ خیبر پختونخوا اور پنجاب حکومت کے نمائندے بھی مذاکراتی عمل میں شامل رہے۔
وزیر خزانہ کی واپسی کے بعد مذاکرات میں تیزی
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں مختلف شعبوں سے متعلق بریفنگز کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اس وقت برطانیہ میں وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ کی پاکستان واپسی کے بعد پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان باقاعدہ مذاکرات مزید آگے بڑھیں گے۔ اس دوران معیشت کے مختلف شعبوں سے متعلق حکومتی اقدامات اور اہداف کا جائزہ لیا جائے گا۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری بات چیت ایسے وقت میں ہورہی ہے جب حکومتی ادارے محصولات اور مالیاتی نظام سے متعلق مختلف اقدامات پر پیش رفت سے مشن کو آگاہ کررہے ہیں۔
سرکاری افسران کے اثاثوں کو ظاہر کرنے سے متعلق قانون بھی مذاکرات میں زیر بحث اہم معاملات میں شامل رہا۔