ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو پسماندگی کی طرف دھکیلنے کی کوشش ناکام ہوگئی ہے اور وہ وقت زیادہ دور نہیں جب بحیرہ عرب بھی دشمن کی موجودگی سے پاک ہوجائے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے یہ بیان ڈیفنس ویک اور حزب اللہ کے سابق سربراہ سید حسن نصراللہ کی دوسری برسی کے موقع پر جاری پیغام میں دیا۔ ان کے بیان میں ایران کی علاقائی پوزیشن کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب میں موجودگی سے متعلق بھی سخت مؤقف سامنے آیا ہے۔
ہرمز کے بعد بحیرہ عرب کا ذکر
ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ ماضی میں دشمن نے جنوبی ایران کے دونوں اطراف موجود سمندری علاقے کو اپنے لیے سرگرمیوں کا میدان بنا رکھا تھا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کے دفاع کرنے والوں کی کارروائیوں کے بعد دشمن اب بحیرہ عرب سے آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کرتا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے دعویٰ کیا کہ جس طرح آبنائے ہرمز میں ایران کے دفاع نے صورتحال تبدیل کی اسی طرح مستقبل میں بحیرہ عرب سے بھی دشمن کی موجودگی ختم ہونے کا وقت دور نہیں۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز اور خطے کے دیگر اہم سمندری راستے عالمی سطح پر مسلسل توجہ کا مرکز ہیں۔
ایران کو پسماندگی میں دھکیلنے کا دعویٰ مسترد
ایرانی سپریم لیڈر نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش ناکام ہونے کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس دور میں واپس نہیں جائے گا جسے دشمن دیکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض لوگ ایران کو دنیا کی چوتھی سپر پاور قرار دے رہے ہیں تاہم ان کے بقول اللہ نے چاہا تو ایران سب سے بڑی طاقت بنے گا۔
یہ بیانات ایران کی جانب سے اپنی دفاعی اور علاقائی پوزیشن کو مضبوط قرار دینے کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایرانی قیادت کی جانب سے ماضی میں بھی خطے میں امریکی موجودگی اور ایران پر دباؤ کے حوالے سے سخت بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔
حسن نصراللہ کو خراج عقیدت
مجتبیٰ خامنہ ای نے حزب اللہ کے سابق سربراہ سید حسن نصراللہ کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے انہیں عرب دنیا کا ہیرو کمانڈر اور مزاحمتی محاذ کی ایک بڑی علامت قرار دیا۔
ایرانی سپریم لیڈر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا سے متعلق کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی صورتحال پر عالمی سطح پر توجہ برقرار ہے۔
ان کے بیان میں خاص طور پر بحیرہ عرب کا ذکر اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں ایران کی مزاحمت کے دعوے کو مستقبل میں بحیرہ عرب کی صورتحال سے جوڑا ہے۔
تاہم بحیرہ عرب سے دشمن کی موجودگی ختم ہونے کا دعویٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا مؤقف ہے جس کی عملی صورت حال اس بیان سے الگ معاملہ ہے۔