عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں پیر کو شدید گراوٹ کے بعد منگل کو دوبارہ اضافہ ہوگیا، تاہم قیمتی دھات اب بھی سات ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب موجود ہے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار، مہنگائی کے اعداد و شمار اور امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی پر مرکوز ہیں۔
رائٹرز کے مطابق منگل کو اسپاٹ گولڈ کی قیمت تقریباً 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,130.58 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، تاہم سونا 5 اگست کے بعد کی کم ترین سطح کے قریب رہا۔ ایک روز قبل عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں تقریباً 4 فیصد تک کمی ہوئی تھی اور قیمت 4,111 ڈالر فی اونس تک گر گئی تھی۔
سونے کی قیمت میں حالیہ شدید اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ امریکی بانڈز کی بڑھتی ہوئی پیداوار اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود مزید بلند رکھنے کے امکانات کو قرار دیا جارہا ہے۔ امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی پیداوار پیر کو 5.27 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جو جون 2007 کے بعد بلند ترین سطح تھی، جبکہ بعد میں یہ تقریباً 5.23 فیصد پر آگئی۔
ماہرین کے مطابق بانڈز کی پیداوار میں اضافہ سونے کے لیے دباؤ کا باعث بنتا ہے کیونکہ سونا خود کوئی منافع یا سود ادا نہیں کرتا، جبکہ زیادہ شرحِ سود والی سرمایہ کاری نسبتاً پرکشش ہوجاتی ہے۔ اسی وجہ سے امریکی شرح سود کے آئندہ فیصلوں سے متعلق توقعات سونے کی عالمی قیمت کے لیے اہم عامل بن گئی ہیں۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ بھی سونے کی قیمتوں پر اثرانداز ہورہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث خام تیل مہنگا ہونے سے عالمی مہنگائی کے خدشات بڑھے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود بلند رکھنے یا مزید اضافے پر غور کرسکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی سونے کی مارکیٹ کے لیے اہم ہے۔ خطے میں سفارتی پیش رفت کے امکانات اور امریکی و ایرانی مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ برقرار ہے۔ ایسے حالات میں سرمایہ کار سونے کو محفوظ اثاثے کے طور پر بھی دیکھتے ہیں، تاہم اس وقت بلند بانڈ ییلڈز اور شرح سود کی توقعات اس رجحان کو محدود کررہی ہیں۔
پاکستان میں بھی عالمی مارکیٹ کی اس بڑی گراوٹ کا اثر سامنے آیا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق پیر کو ملک میں فی تولہ سونا 12 ہزار 800 روپے کمی کے بعد 4 لاکھ 38 ہزار 136 روپے کا ہوگیا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 10 ہزار 973 روپے کم ہوکر 3 لاکھ 75 ہزار 631 روپے رہی۔
یوں عالمی مارکیٹ میں سونا شدید کمی کے بعد منگل کو معمولی بحالی کی طرف آیا ہے لیکن موجودہ صورتحال میں امریکی شرح سود ٹریژری بانڈز کی پیداوار، ڈالر، تیل کی قیمت اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سونے کی آئندہ سمت طے کرنے والے اہم عوامل رہیں گے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے سونے کی قیمت میں مزید تیزی یا کمی کا انحصار آنے والے امریکی معاشی اعداد و شمار اور فیڈرل ریزرو کی پالیسی سے متعلق مارکیٹ کی توقعات پر ہوگا۔