بلوچستان میں دہشتگردوں کا بزدلانہ وار ، ضلع دکی سے 18 محنت کش اغوا

بلوچستان میں دہشتگردوں کا بزدلانہ وار ، ضلع دکی سے 18 محنت کش اغوا

بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والی کالعدم دہشت گرد تنظیم بی ایل اے نے ایک بار پھر معصوم اور نہتے محنت کشوں کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔

بلوچستان میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے کے لیے کالعدم دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کی ایک بار پھر اپنی تخریبی سرگرمیاں تیز ، جن کا براہِ راست نشانہ بے گناہ اور معصوم شہری بن رہے ہیں۔

 ضلع دُکی میں دہشتگردی  کا ایک اور واقعہ سامنے آیا جہاں مسلح افراد نے نانا صاحب زیارت کے علاقے میں سڑک تعمیر کرنے والی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کرکے 18 مزدوروں کو اغوا کرلیا۔

مغویوں کی شناخت  

اغوا کیے گئے 18 مزدوروں میں سے 8 کا تعلق رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد کی ڈاہر برادری سے ہے جو کہ  بستی مٹھ خان، موضع اللہ آباد، چوک چادر، تحصیل صادق آباد کے رہائشی ہیں۔

مغوی مزدوروں میں سکندر خان ڈاہر، نعمان ڈاہر، شمان علی ڈاہر، نعیم خان ڈاہر، سمیع خان ڈاہر، آفتاب ڈاہر، باسط علی ڈاہر اور ارشاد احمد ڈاہر شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بلوچستان: پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد جہنم واصل

واقعے کے بعد مغوی مزدوروں کے اہل خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں اور ان کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے پیاروں کی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش ہے جبکہ  صوبے میں سیکیورٹی صورتحال اور عام شہریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔

مغویوں کے اہلخانہ کی اپیل 

مغویوں کے اہل خانہ نے حکومت پاکستان، حکومت بلوچستان، مسلح افواج، سکیورٹی فورسز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مغوی مزدوروں کی زندگیوں کے تحفظ اور ان کی جلد بحفاظت بازیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

دہشتگرد ترقی کی راہ میں رکاوٹ 

بلوچستان میں تعمیر و ترقی، خصوصاً سڑکوں اور مواصلاتی نیٹ ورک کے منصوبے، طویل عرصے سے بی ایل اے کالعدم تنظیموں اور دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔

روزی روٹی کی تلاش میں نکلے بے گناہ شہریوں اور عام محنت کشوں کو مسلسل نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کالعدم بی ایل اے ریاست کے ساتھ ساتھ عام عوام کی زندگی اور بلوچستان کی ترقی کی دشمن بن چکی ہے۔

دکی-چمالنگ روڈ کی تعمیر میں مصروف مزدوروں پر یہ حملہ اس بات کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ دہشت گرد عناصر صوبے میں عوامی سہولت اور ترقی کا راستہ روکنا چاہتے ہیں ، معصوم مزدوروں اور مزدور کیمپوں کو نشانہ بنانا دہشت گردوں کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد خوف و ہراس پھیلا کر ترقیاتی کاموں کو معطل کرنا ہے تاہم سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں ۔

editor

Related Articles