حکومت نے یکم جولائی 2027 سے گیس کے 12 سلیب ختم کر کے تمام صارفین کے لیے 1,708 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کا یکساں ٹیرف نافذ کرنے اور عالمی مالیاتی فنڈ سے منظوری لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے ملک بھر میں گیس کی قیمتوں کے نظام میں ایک بڑی اور ساختی تبدیلی لانے کی تیاری کر لی ہے۔ موجودہ 12 سلیب پر مشتمل ٹیرف سسٹم کو بتدریج ختم کر دیا جائے گا۔
اس وقت رائج نظام کے تحت صارفین اپنی ماہانہ کھپت کے لحاظ سے مختلف بل ادا کرتے ہیں۔ نئے مجوزہ منصوبے کے تحت تمام زمروں کے صارفین کو بتدریج یکساں اوسط ٹیرف کی جانب منتقل کیا جائے گا، جس کے بعد گیس کی قیمت تقریباً 1,708 روپے فی ‘ایم ایم بی ٹی یو’ مقرر ہو جائے گی۔
’کراس سبسڈی‘ کا خاتمہ اور مالی معاونت
اس اہم تبدیلی کا ایک بڑا مقصد موجودہ کراس سبسڈی کے نظام کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کم آمدن والے گھرانوں کو براہ راست ریلیف فراہم کیا جائے۔
اس غرض سے ’ہدفی مالی معاونت‘ کے لیے بجٹ میں تقریباً 162 ارب روپے مختص کیے جائیں گے تاکہ غریب اور مستحق طبقے کو گیس کی قیمتوں کے اس یکساں اور سخت نظام کے ابتدائی جھٹکے سے بچایا جا سکے۔
عالمی مالیاتی فنڈ سے منظوری
پیٹرولیم ڈویژن اس نئے ٹیرف ماڈل کو یکم جولائی 2027 سے نافذ العمل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم، اس بڑے معاشی اقدام کو حتمی شکل دینے اور لاگو کرنے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے باقاعدہ منظوری لی جائے گی۔
یہ اقدام ملکی معیشت کی ساختی اصلاحات کے وسیع تر فریم ورک کا حصہ ہے جس کا مطالبہ عالمی ادارے طویل عرصے سے کر رہے ہیں۔
پاکستان میں گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ ایک طویل عرصے سے ملکی معیشت کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ ماضی میں حکومتیں زیادہ گیس استعمال کرنے والے صنعتی اور کمرشل صارفین سے اضافی رقم وصول کر کے کم استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو سستی گیس فراہم کرتی رہی ہیں۔
اس کراس سبسڈی کی وجہ سے نہ صرف گیس کمپنیوں کے خسارے میں بے پناہ اضافہ ہوا بلکہ مالیاتی بوجھ بھی بڑھا۔ عالمی اداروں کی جانب سے اس غیر متوازن اور بوجھل نظام کو ختم کرنے کا مسلسل دباؤ رہا ہے تاکہ توانائی کے شعبے کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا جا سکے۔
پالیسی کے معاشی و سماجی اثرات
اس مجوزہ پالیسی کو معاشی اور سماجی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ توانائی کے شعبے میں طویل المدتی استحکام کی جانب ایک ناگزیر اور سخت قدم ہے۔ کراس سبسڈی کے خاتمے سے مارکیٹ میں گیس کی اصل قیمت کا تعین ہوسکے گا، جس سے ملکی خزانے پر پڑنے والا بوجھ نمایاں حد تک کم ہو جائے گا۔
تاہم 12 سلیب کا نظام ختم ہونے سے درمیانے طبقے کے ان صارفین پر گیس کے بلوں کا دباؤ یکدم بڑھنے کا قوی امکان ہے جو اب تک کم کھپت کے باعث سستی گیس استعمال کر رہے تھے۔
اس پالیسی کی کامیابی کا تمام تر دارومدار اس بات پر ہے کہ حکومت 162 ارب روپے کی ہدفی سبسڈی کو کس حد تک شفاف طریقے سے مستحق افراد تک پہنچاتی ہے۔