وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر آئینی تقاضے پورے ہونے کی صورت میں غور کیا جاسکتا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حالات اور اس کا طریقہ کار واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال آئین کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کا تقاضا کرتی ہے تو یہ نافذ ہونی چاہیے اور مقررہ آئینی تقاضے پورے ہونے کے بعد نافذ کی جائے گی۔
وفاقی وزیر قانون نے واضح کیا کہ حکومت آئین میں درج طریقہ کار پر عمل کرے گی اور قانون سے ہٹ کر کوئی اقدام نہیں کیا جائے گا۔ ان کے یہ بیانات وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان سکیورٹی، حکمرانی اور سیاسی معاملات پر بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت صدر مملکت صوبائی گورنر کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد، اگر مطمئن ہوں کہ ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس میں صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی، تو اعلان جاری کرسکتے ہیں۔
آرٹیکل 234 کے تحت جاری کیا گیا اعلان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے اور عام طور پر 2 ماہ بعد ختم ہوجاتا ہے، تاہم منظوری کی صورت میں اس میں توسیع کی جاسکتی ہے۔ آئین اس کی مجموعی مدت کے حوالے سے بھی حد مقرر کرتا ہے۔
ادھر وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے بھی پیر کو کہا کہ ان کے خیال میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے لیے قانونی تقاضے پورے ہوچکے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ ’’کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے‘‘۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسی دھمکیوں کی وجہ سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت کے مختلف رہنماؤں کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔ 23 ستمبر کو وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے گورنر راج کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبے کو گورنر راج نہیں بلکہ عوام کی حکومت کی ضرورت ہے۔
تازہ بیانات کے بعد وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان سیاسی و آئینی اختلافات پر بحث ایک بار پھر تیز ہوگئی ہے، تاہم اعظم نذیر تارڑ نے ایمرجنسی کے معاملے کو آئینی تقاضے پورے ہونے سے مشروط قرار دیا ہے۔