انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) کرکٹ ورلڈ کپ 2027 میں پاکستان اور بھارت کو تجارتی ضروریات کے باعث ایک ہی گروپ میں رکھے جانے کا قوی امکان ہے، جبکہ ایونٹ کے شیڈول کا باقاعدہ اعلان کل کیپ ٹاؤن میں پاکستانی وقت کے مطابق رات 9 بجے کیا جائے گا۔
بھارتی میڈیا پلیٹ فارم ’ریو اسپورٹز‘ کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے کمرشل پارٹنرز اور براڈکاسٹرز پاک بھارت مقابلے کو ٹورنامنٹ کی سب سے بڑی مالیاتی ضامن مانتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ انہوں نے گروپ اسٹیج پر اس ٹاکرے کا انعقاد لازمی قرار دیا ہے۔ براڈکاسٹرز کا ماننا ہے کہ آئی سی سی ایونٹس میں ان دونوں ممالک کا آمنے سامنے آنا نہ صرف ناظرین کی ریکارڈ تعداد فراہم کرتا ہے بلکہ ایونٹ کی مجموعی تجارتی قدر میں بھی بے پناہ اضافہ کرتا ہے۔
میزبانی، تاریخیں اور کوالیفکیشن کا فارمولا
اگلے سال 2 اکتوبر سے 21 نومبر 2027 تک کھیلا جانے والا یہ میگا ایونٹ جنوبی افریقا، نمیبیا اور زمبابوے کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہوگا۔
ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 14 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ ون ڈے رینکنگ کی ٹاپ 8 ٹیمیں براہ راست کوالیفائی کریں گی۔ اس وقت بنگلہ دیش رینکنگ میں 9 ویں نمبر پر ہونے کے باوجود براہ راست جگہ بنانے میں کامیاب رہے گا، کیونکہ تیسری پوزیشن پر موجود جنوبی افریقا بطور میزبان ملک پہلے ہی کوالیفائی کر چکا ہے۔
ٹورنامنٹ کے 3 مراحل اور ’سپر 7‘ کا نیا طریقہ کار
2027 کے ورلڈ کپ کو سیمی فائنلز اور فائنل سے قبل 3 اہم مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں کم درجہ رکھنے والی 3 ٹیموں کے درمیان ’سپر سیریز‘ کھیلی جائے گی، جس کے تمام راؤنڈ رابن میچز میں فتح حاصل کرنے والی پہلی ٹیم اگلے مرحلے میں داخل ہوگی۔
دوسرے مرحلے میں 12 ٹیموں کو 6، 6 کے 2 گروپس میں تقسیم کر کے 30 میچز کروائے جائیں گے۔ دونوں گروپس کی ٹاپ 3 ٹیمیں اور مجموعی طور پر اگلے نمبر کی بہترین ٹیم یعنی کل 7 ٹیمیں ’سپر 7‘ مرحلے میں جگہ بنائیں گی، جہاں 21 راؤنڈ میچز کے بعد ٹاپ 4 ٹیمیں سیمی فائنلز کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
سیمی فائنل میں پہلی پوزیشن کی ٹیم چوتھی جبکہ دوسری ٹیم تیسری پوزیشن والی ٹیم سے ٹکرائے گی، اور دونوں فاتح ٹیمیں فائنل میں جگہ بنائیں گی۔
پاکستان اور بھارت کے مابین 50 اوورز کے آئی سی سی ایونٹس کا حالیہ ماضی دیکھا جائے تو پاکستان کا ریکارڈ کچھ خاص متاثر کن نہیں رہا ہے۔
قومی ٹیم نے آخری بار جون 2017 میں چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کو تاریخی شکست دی تھی، تاہم اس کے بعد سے 50 اوورز کی کرکٹ میں پاکستان بھارت کے خلاف کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
اس کے باوجود عالمی سطح پر ان دونوں روایتی حریفوں کا ٹاکرا آج بھی دنیائے کھیل کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقابلوں میں شمار ہوتا ہے۔
تجارتی اور کھیل کے توازن کی صورتحال
کرکٹ کے اس نئے فارمیٹ اور پاک بھارت مقابلے کو دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آئی سی سی نے کھیل کے سنسنی خیز عنصر کے ساتھ ساتھ تجارتی مفادات کا مکمل توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔
طویل فارمیٹ اور ’سپر 7‘ جیسے مراحل متعارف کروانے کا مقصد نہ صرف چھوٹی ٹیموں کو عالمی سطح پر کھیلنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہے بلکہ بڑی ٹیموں کے میچز کی تعداد بڑھا کر اسپانسرز اور ناظرین کی دلچسپی کو آخری وقت تک قائم رکھنا بھی ہے۔
پاک بھارت مقابلے کا ایک ہی گروپ میں ہونا نہ صرف ایونٹ کو ابتدائی دنوں میں ہی زبردست پبلسٹی فراہم کرے گا بلکہ دونوں ممالک کی کرکٹ ٹیموں کی موجودہ فارم اور نفسیاتی دباؤ کو بھی پرکھنے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔