افغانستان کے ’ہندوکش‘ ریجن میں صبح سویرے 5.5 شدت کے زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاہم خوش قسمتی سے ابتدائی اطلاعات کے مطابق تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
افغانستان کے مختلف علاقوں میں جمعرات کی صبح معمولاتِ زندگی کا آغاز ہو رہا تھا کہ اچانک زمین لرزنے لگی۔ زلزلے کے یہ جھٹکے اس قدر واضح تھے کہ لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں، دکانوں اور عمارتوں سے کھلے مقامات کی جانب دوڑ پڑے۔
یہ بھی پڑھیںؔملک کے مختلف علاقوں میں زلزلہ، شدت کتنی ریکارڈ ہوئی؟
زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں کچھ دیر کے لیے افراتفری کی صورتحال دیکھی گئی، اور لوگ اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کرتے رہے۔
نقصانات کی ابتدائی رپورٹس اور انتظامی اقدامات
حکام کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.5 ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ ایک درمیانی درجے کا زلزلہ تصور کیا جاتا ہے۔ اب تک ملنے والی ابتدائی اطلاعات تسلی بخش ہیں کیونکہ کسی علاقے سے تاحال جانی یا بڑے مالی نقصان کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔
تاہم، چونکہ زلزلے کا مرکز اور اس کے قریبی علاقے زیادہ تر دشوار گزار اور دور دراز پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہیں، اس لیے متعلقہ ادارے مختلف اضلاع سے رابطے کر کے نقصانات کی مکمل تفصیلات اکٹھی کر رہے ہیں۔
زلزلوں کا مرکز، ’ہندوکش‘
افغانستان کا ’ہندوکش‘ ریجن ارضیاتی لحاظ سے انتہائی حساس علاقے میں واقع ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس خطے میں ماضی میں بھی متعدد بار ہولناک اور شدید زلزلے آ چکے ہیں، جنہوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔ یہ پورا پہاڑی سلسلہ ارضیاتی پلیٹوں کی فالٹ لائن پر موجود ہے، جو اسے زلزلوں کے لیے انتہائی سازگار بناتا ہے۔
خطرات کا جائزہ اور ارضیاتی حقائق
جغرافیائی ساخت کے اعتبار سے، ’ہندوکش‘ کا خطہ انڈین اور یوریشین ارضیاتی پلیٹوں کے ٹکراؤ کے مقام پر واقع ہے۔ جب یہ زیرِ زمین پلیٹیں آپس میں رگڑ کھاتی ہیں یا ان کا دباؤ بڑھتا ہے، تو توانائی خارج ہونے کے نتیجے میں زلزلے کے شدید جھٹکے پیدا ہوتے ہیں۔
اگرچہ 5.5 شدت کا زلزلہ تکنیکی اعتبار سے تباہ کن زلزلوں کی فہرست میں نہیں آتا، لیکن افغانستان کا زمینی حقائق اس سے یکسر مختلف ہیں۔
مزید پڑھیں:انڈونیشیا میں 6.2 شدت کا زلزلہ ، شہریوں میں خوف وہراس
یہاں کے زیادہ تر دیہی اور دور دراز علاقوں میں مکانات مٹی اور پتھروں سے بنے کچے ڈھانچوں پر مشتمل ہیں۔ انفراسٹرکچر کی اس کمزوری کے باعث اتنی شدت کا زلزلہ بھی گنجان آباد یا کچے مکانات والے علاقوں میں کسی بڑے سانحے کا سبب بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس ارضیاتی حساسیت کو دیکھتے ہوئے تعمیراتی معیار کو بہتر بنانا اور آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری ہی وہ واحد راستہ ہے، جو مستقبل میں ہونے والے کسی بھی بڑے جانی و مالی نقصان کی شدت کو کم کر سکتا ہے۔
