عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں نے اچانک یوٹرن لے لیا ، گزشتہ روز برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کے نرخ تقریباً 7 سے 8 ڈالر فی بیرل نیچے آ گئے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی پائپ لائن کی بحالی اور آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی میں بہتری آنے کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں یہ کمی واقع ہوئی ہے، یہ دونوں راستے عالمی تیل کی رسد میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، ان میں رکاوٹ آئے تو قیمتیں چڑھتی ہیں، اور رکاوٹ ہٹے تو مارکیٹ پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ اس بار یہی ہوا ہے۔
موجودہ نرخ: کس کی قیمت کتنی رہی؟
تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 0.90 فیصد کمی کے بعد 89.56 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے۔
برینٹ کروڈ آئل بھی پیچھے نہیں رہا، جو 0.67 فیصد کمی کے ساتھ 97.29 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ پہنچا۔
دوسری طرف اماراتی مربن خام تیل نے الگ راستہ اختیار کیا۔ اس کی قیمت 1.37 فیصد اضافے کے ساتھ 102.3 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مربن کی قیمت باقی دونوں کے برعکس بڑھی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں ابھی مکمل یکسوئی نہیں آئی۔
مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار
سپلائی بحال ہونے سے قیمتوں پر دباؤ ضرور کم ہوا ہے تاہم تیل کی منڈی میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ کا رجحان اب بھی نظر آ رہا ہے ، ایک دن کی کمی کو مستقل رجحان سمجھنا جلد بازی ہو گی۔ تاجر اور سرمایہ کار اب اگلی خبروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عام آدمی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
خام تیل سستا ہو تو اس کا فائدہ عموماً پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں تک پہنچتا ہے، پاکستان جیسے درآمدی ملک کے لیے یہ خبر اہم ہے، کیونکہ تیل کی درآمد پر بھاری زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے، قیمتیں نیچے رہیں تو پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے ، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی لاگت پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔
البتہ مقامی سطح پر قیمتوں کا فیصلہ ٹیکسوں، ڈالر کی شرح اور حکومتی پالیسی سے بھی جڑا ہوتا ہے اس لیے عالمی کمی کا مکمل فائدہ فوری طور پر ملنا ضروری نہیں۔
مستقبل کیا ہوسکتا ہے ؟
مستقبل کی سمت زیادہ تر سپلائی کے استحکام پر منحصر ہے۔ اگر سعودی پائپ لائن اور آبنائے ہرمز کے راستے بغیر رکاوٹ چلتے رہے تو قیمتوں پر دباؤ جاری رہ سکتا ہے۔ اس کے برعکس، کسی نئی رکاوٹ یا کشیدگی کی صورت میں نرخ دوبارہ اوپر جا سکتے ہیں۔ فی الحال مارکیٹ محتاط امید کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔