’آپریشن غضبِ حق‘ کا آغاز، افغانستان میں 2 مقامات پر دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ حملے، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے 22 دہشتگرد ہلاک
Home - اہم خبریں - ’آپریشن غضبِ حق‘ کا آغاز، افغانستان میں 2 مقامات پر دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ حملے، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے 22 دہشتگرد ہلاک
پاکستان نے ’عزمِ استحکام‘ وژن کے تحت افغانستان میں 2 مختلف مقامات پر دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر انٹیلی جنس بیسڈ فضائی کارروائی کی ہے، جس کے نتیجے میں 22 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ ’آپریشن غضبِ حق‘ نامی اس انسدادِ دہشتگردی مہم کا بنیادی ہدف ’فتنۃ الخوارج‘ اور ’فتنۃ الہند‘ کے مراکز تھے۔
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اعلامیے کے مطابق یہ فضائی کارروائیاں مکمل طور پر مصدقہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔
*1st October, 2026;*
In continuation of operation Ghazab lil Haq and Pakistan’s resolve to eliminate terrorists, their networks and supporters, well planned and calibrated aerial strikes against the hideouts and safe havens of terrorists organisations of Fitna al Khwarij and…
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) October 1, 2026
وزارت اطلاعات کے مطابق حملوں میں ’فتنۃ الخوارج‘ ، ’فتنۃ الہندوستان‘ اور ان کے حلیف گروپوں کی پناہ گاہوں کو انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
ابتدائی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اس بھرپور کارروائی کے نتیجے میں 22 دہشتگرد موقع پر ہی مارے گئے۔ علاوہ ازیں ان مخصوص ٹھکانوں پر چھپا کر رکھا گیا بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
شہری آبادی کا تحفظ اور سیکیورٹی فورسز کی حکمتِ عملی
وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق اس حساس نوعیت کے آپریشن کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے دوران غیر معمولی احتیاط برتی گئی۔
فورسز کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ دہشتگردوں کو نشانہ بناتے ہوئے کسی بھی قسم کا جانی یا مالی نقصان عام شہریوں کو نہ پہنچے۔
یہ حملے دراصل پاکستان کی جانب سے ان جاری کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد دہشتگردوں کے نیٹ ورکس، ان کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے معاون ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرنا ہے۔
افغان سرزمین کا استعمال
پاکستان ایک طویل عرصے سے اس واضح مؤقف کا اعادہ کرتا آ رہا ہے کہ اس کی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا بنیادی منبع افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیمیں اور ان کے نیٹ ورکس ہیں۔
اسلام آباد نے بارہا متعلقہ افغان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ان مسلح گروہوں کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کریں۔
ملک کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بار پھر اس عزم کو دہرایا ہے کہ ‘عزمِ استحکام’ وژن کے سائے تلے جاری ‘آپریشن غضبِ حق’ کا تسلسل ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔
بدلتی علاقائی صورتحال
افغانستان کی حدود میں جا کر کی گئی یہ ٹارگٹڈ فضائی کارروائی پاکستان کی انسدادِ دہشتگردی کی حکمتِ عملی میں ایک اہم اور واضح جارحانہ تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
’فتنۃ الخوارج‘ اور ’فتنۃ الہندوستان‘ جیسے بیانیے کا استعمال اس بات کا غماز ہے کہ ریاست ان گروہوں کو محض مقامی شرپسند نہیں بلکہ بیرونی و ریاست مخالف ایجنڈے پر کام کرنے والے وجود کے طور پر دیکھتی ہے۔
بارڈر پار جا کر انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی یہ اسٹرائیک خطے کے لیے یہ واضح پیغام ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کی برداشت ختم ہو چکی ہے اور اب قومی دفاع کے لیے خطرات کو ان کے ماخذ پر ہی کچلنے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ یہ اقدامات مستقبل میں سیکیورٹی چیلنجز کے تدارک کے لیے ایک مؤثر ڈیٹرنس کا کام کریں گے۔