چاقو حملے سے شروع معاملہ ایران تک جا پہنچا، ٹرمپ نے سخت حملے کی دھمکی دے دی

چاقو حملے سے شروع  معاملہ ایران تک جا پہنچا، ٹرمپ نے سخت حملے کی دھمکی دے دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر رواں ہفتے پیش آنے والے فلائی دبئی واقعے میں ایران کا تعلق ثابت ہوگیا تو تہران کو انتہائی سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں واقعے کے حوالے سے کہا کہ انہیں صورتحال پر بریفنگ دی گئی ہے۔

امریکی صدر نے اماراتی پرواز میں کپتان پر چاقو سے حملے کے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث معاون پائلٹ کا ایران سے تعلق ہونے کا امکان ظاہر کیا۔

تاہم انہوں نے اس حوالے سے حتمی ثبوت پیش نہیں کیا اور معاملے کی مزید تحقیقات کا حوالہ دیا۔

ایران سے تعلق کا دعویٰ

ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا ایرانی پاسداران انقلاب نے مبینہ معاون پائلٹ کو بھیجا تھا یا وہ خود انتہاپسندی کا شکار ہوا۔

 یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کو مڈٹرم انتخابات میں خطرے کی گھنٹی سنائی دینے لگی؟ڈیموکریٹس کی کامیابی پر بڑی وارننگ

امریکی صدر نے جواب میں کہا کہ دونوں امکانات میں سے کوئی ایک درست ہوسکتا ہے۔

ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر ایران کو فلائی دبئی واقعے سے منسلک پایا گیا تو تہران کے خلاف بہت سخت کارروائی کی جائے گی۔

ان کے بیان کے بعد واقعے نے امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کرلی ہے۔

تاہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ معاون پائلٹ کے ایران سے تعلق کے بارے میں حتمی نتیجے تک پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔

اس لیے واقعے میں ایران کے مبینہ کردار سے متعلق دعویٰ ابھی تحقیقات اور شواہد سے جڑا ہوا ہے۔

تیل کی قیمتوں پر بھی بات

امریکی صدر نے گفتگو کے دوران تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بھی تبصرہ کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا معاملہ ختم ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں نیچے آنا شروع ہوجائیں گی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران سے متعلق معاملہ تقریباً ختم ہونے کے قریب ہے۔

ٹرمپ کے مطابق امریکا اس وقت آبنائے ہرمز سے جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیل نکال رہا ہے۔

عالمی توانائی مارکیٹ میں آبنائے ہرمز کی صورتحال انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

اس راستے میں کسی بڑی رکاوٹ کی صورت میں عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اور قیمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔

ایران کو معاہدے کا پیغام

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے کہا کہ تہران کو ایک انتہائی منصفانہ معاہدے پر دستخط کرنا ہوں گے۔

ان کے مطابق دوسری صورت میں ایران کے وجود کے حوالے سے انتہائی سنگین صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران نے شرائط امریکا کو دیدیں مگر ڈونلڈ ٹرمپ فیصلہ کرنے کے قابل نہیں ، محسن رضائی

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے ساتھ مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

فلائی دبئی واقعے کے معاملے میں ایران کا مبینہ کردار ثابت ہونے کی صورت میں دونوں ممالک کے درمیان صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

فی الحال واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کا حتمی تعین نہیں ہوا۔

تحقیقات کے نتائج ہی یہ واضح کرسکیں گے کہ مبینہ معاون پائلٹ کے کسی ایرانی ادارے یا حکومت سے واقعی کوئی تعلق تھا یا نہیں۔

editor

Related Articles