امریکی توانائی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں ایک سال سے زائد عرصے تک معمول پر نہیں آسکیں گی۔
کمپنیوں کے مطابق ایران جنگ اور یوکرین کے روسی ریفائنریوں پر حملوں کے اثرات اب عالمی توانائی منڈی میں نمایاں ہورہے ہیں۔
امریکی فیڈرل ریزرو سسٹم سے منسلک ڈیلاس فیڈ کے سروے میں توانائی کمپنیوں نے موجودہ صورتحال پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔
کمپنیوں کے مطابق ایندھن کا موجودہ بحران آنے والے مہینوں میں عالمی توانائی منڈیوں پر دیرپا اثر ڈال سکتا ہے۔
ڈیزل کی قیمت ریکارڈ سطح پر
امریکا میں ڈیزل کی قیمت پہلے ہی بلند ترین سطحوں تک پہنچ چکی ہے۔
ستمبر میں ڈیزل کی فی گیلن قیمت ساڑھے 6 ڈالر کی سطح تک پہنچ گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں :عالمی سطح پر قیمتیں بڑھنے کے باوجود حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل سستا کردیا
توانائی کمپنیوں کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث قیمتوں میں فوری کمی کی توقع نہیں کی جارہی۔
ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی معیشت کے کئی شعبوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
مال برداری، زراعت اور صنعت میں ڈیزل کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔
ایندھن کی قیمت بڑھنے سے نقل و حمل اور پیداواری اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ایران جنگ کا اثر
توانائی کمپنیوں نے ایران جنگ کے وسیع تر معاشی اثرات سامنے آنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عالمی توانائی سپلائی کے لیے اہم خطرہ بن سکتی ہے۔
اس صورتحال میں عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب یوکرین کی جانب سے روسی ریفائنریوں پر حملوں نے بھی توانائی مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔
ریفائنریوں کو نقصان پہنچنے سے پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے۔
اس کا اثر مختلف ممالک میں ایندھن کی قیمتوں پر پڑنے کا امکان ہے۔
ڈیزل برآمدات پر پابندی زیر غور
امریکا ڈیزل کی برآمدات محدود کرنے کی تجویز پر بھی غور کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستان معاشی شرح نمو اور مہنگائی سے متعلق خطرناک پیشگوئی


