Skip to content
ایران نے امریکا کے سامنے نیا کارڈ کھیل دیا، پابندیوں میں نرمی کے بدلے بڑی پیشکش
Home - تازہ ترین - ایران نے امریکا کے سامنے نیا کارڈ کھیل دیا، پابندیوں میں نرمی کے بدلے بڑی پیشکش
ایران نے پابندیوں میں نرمی کے بدلے جوہری معائنہ کاروں کو بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک رسائی دینے کی تجویز پیش کردی۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک میں یورپی اور مشرق وسطیٰ کے سفارت کاروں سے ملاقاتوں کے دوران یہ تجویز سامنے رکھی۔
ایرانی تجویز کو امریکا کے ساتھ تعطل کا شکار مذاکرات میں پیش رفت کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔
سفارت کاروں کے مطابق عراقچی نے نجی ملاقاتوں میں جوہری معائنہ کاروں کی رسائی کی پیشکش کی۔
پابندیوں میں نرمی شرط
ایران نے جوہری معائنہ کاروں کو رسائی دینے کے معاملے کو پابندیوں میں نرمی سے مشروط کیا ہے۔
تہران کا مؤقف ہے کہ اقتصادی پابندیوں میں کمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی مذاکرات میں اہم پیش رفت کے لیے ضروری ہے۔
عباس عراقچی نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکا نیک نیتی کا مظاہرہ کرے تو ایران جوہری معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے اقتصادی ناکہ بندی کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی کو بھی اہمیت حاصل ہے۔
یورینیم افزودگی پر ایرانی مؤقف
ایرانی وزیر خارجہ نے یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر بھی اپنے ملک کا مؤقف واضح کیا۔
انہوں نے کہا کہ 60 فیصد تک یورینیم کی افزودگی ایران کے مؤقف میں قانونی ہے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے دائرہ کار میں آتی ہے۔
عراقچی نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی طبی مقاصد اور دیگر ضروریات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
ایران طویل عرصے سے اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا آیا ہے۔
امریکا کے ساتھ مذاکرات کا معاملہ
عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ اور مذاکرات میں سے انتخاب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہے۔
ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم کسی نئی جارحیت کی صورت میں ملک اپنے دفاع کے لیے بھی تیار رہے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ مذاکرات کے دوران بھی ایران پر حملہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 2025 میں امریکا نے مذاکرات کی پیشکش کی تو ایران نے اسے قبول کیا تاہم بات چیت کے دوران حملہ کردیا گیا۔
عراقچی کے مطابق فروری 2026 میں بھی امریکا کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر ایران نے آمادگی ظاہر کی لیکن ان کے بقول دوبارہ بات چیت کے دوران حملہ کیا گیا۔
ایران کا سخت مؤقف
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران نے گزشتہ دو جنگوں سے سبق سیکھا اور اپنی حکمت عملی بہتر بنائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کسی نئی جارحیت کی صورت میں مزاحمت کے لیے تیار ہے، چاہے اس کے نتائج کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں۔
