پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں، جن میں شرح سود اور ایکسچینج ریٹ اہم موضوعات بن گئے ہیں۔
آئی ایم ایف نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود سخت رکھنے کی تجویز دی ہے۔
ساتھ ہی مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ برقرار رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
پاکستانی اقتصادی ٹیم نے آئی ایم ایف مشن کو ملکی معاشی صورتحال اور آئندہ کے تخمینوں سے آگاہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :حکومتی معاشی ٹیم اور آئی ایم ایف کےدرمیان مذاکرات آئندہ ہفتے ہونے کا امکان
حکام کے مطابق پاکستان کا معاشی آؤٹ لک مستحکم ہے اور روپے کی قدر بھی مستحکم رہنے کی توقع ہے۔
حکام نے مہنگائی میں بتدریج کمی کی امید بھی ظاہر کی ہے۔
معاشی نمو کا ہدف برقرار
حکام نے مذاکرات کے دوران رواں مالی سال 4 فیصد معاشی نمو کا ہدف برقرار رکھنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باوجود معاشی ہدف تبدیل نہیں کیا جائے گا۔
تاہم مہنگے تیل اور عالمی سپلائی میں رکاوٹوں کو معاشی خطرات میں شامل کیا گیا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق دسمبر کے بعد مہنگائی میں بتدریج کمی متوقع ہے۔
تاہم عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی کے اندازے بھی تبدیل ہوسکتے ہیں۔
روپے کا استحکام درآمدی مہنگائی کو محدود رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
برآمدات کا ہدف 34 ارب ڈالر
مذاکرات کے دوران رواں مالی سال کی برآمدات سے متعلق بھی آئی ایم ایف کو آگاہ کیا گیا ہے۔
تخمینے کے مطابق رواں مالی سال برآمدات 34 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
ترسیلات زر 45.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
ابتدائی دو ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 14.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی تیاری، ریلیف میں بڑی کٹوتی، حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط بھی مان لیں، یہ شرائط کیا ہیں؟
حکام کے مطابق ترسیلات زر میں یہ اضافہ بیرونی شعبے کے لیے مثبت عنصر ہے۔
اس سے ملک کی بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو محدود رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
درآمدات اور کرنٹ اکاؤنٹ
رواں مالی سال درآمدات 69 سے 70 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2.5 سے 3 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مقررہ ہدف سے کم رہ سکتا ہے۔
زرمبادلہ ذخائر کی صورتحال سے بیرونی شعبے کے مستحکم رہنے کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔
خوراک کی مقامی پیداوار بہتر رہنے سے درآمدی بل محدود رکھنے میں مدد ملنے کا امکان ہے۔
یہ عوامل روپے اور بیرونی ادائیگیوں کے لیے اہم سمجھے جارہے ہیں۔
تیل کی قیمت بڑا خطرہ
پاکستانی حکام کے مطابق عالمی تیل 80 ڈالر فی بیرل رہا تو مہنگائی 7.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
اگر تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک گئی تو مہنگائی 8.2 فیصد ہوسکتی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ درآمدی اخراجات اور مقامی قیمتوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
سپلائی میں رکاوٹیں پیدا ہونے کی صورت میں پاکستان کے درآمدی بل پر اضافی دباؤ آسکتا ہے۔
اسی خطرے کے باعث مہنگائی کا معاملہ مذاکرات میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔
شرح سود پر اصل اختلاف
آئی ایم ایف مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے شرح سود سخت رکھنے کے مؤقف پر ہے۔
پاکستانی حکام دوسری جانب آنے والے مہینوں میں مہنگائی کم ہونے کی توقع ظاہر کررہے ہیں۔
دونوں مؤقف کے درمیان فرق شرح سود کے معاملے کو مذاکرات کا اہم نقطہ بنا رہا ہے۔
شرح سود کا تعلق مہنگائی کے ساتھ ساتھ کاروباری قرضوں اور سرمایہ کاری سے بھی ہے۔
شرح سود سخت رہنے سے قرض لینے کی لاگت بلند رہ سکتی ہے۔
دوسری جانب پالیسی میں نرمی کا فیصلہ مہنگائی کے مستقبل کے رجحان سے بھی جڑا ہے۔
مذاکرات میں روپے کا استحکام، ترسیلات زر میں اضافہ اور کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال اہم مثبت عوامل ہیں۔
تاہم عالمی تیل کی قیمتیں پاکستان کے معاشی منظرنامے پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
آنے والے مہینوں میں مہنگائی اور معاشی نمو کے درمیان توازن اہم پالیسی چیلنج رہے گا۔


