دو مہلک انجکشن بھی ناکام ، امریکا میں تاریخی سزائے موت پرعملدرآمد نہ ہو سکا

دو مہلک انجکشن بھی ناکام ، امریکا میں تاریخی سزائے موت پرعملدرآمد نہ ہو سکا

امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت پر عملدرآمد کی کوشش اس وقت غیر معمولی صورتحال اختیار کر گئی، جب دو مہلک انجکشن دینے کے باوجود خاتون کی موت نہ ہوسکی۔

50 سالہ کرسٹا پائیک کو بدھ کی رات مہلک انجکشن کے ذریعے سزائے موت دی جانی تھی۔

تاہم دونوں کوششیں ناکام رہیں اور مقررہ وقت گزرنے کے بعد انہیں طبی مرکز منتقل کردیا گیا۔

کرسٹا پائیک کی سزا پر عملدرآمد ہوجاتا تو وہ تقریباً 200 سال بعد ٹینیسی میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون ہوتیں۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق ریاست میں آخری مرتبہ کسی خاتون کو تقریباً 1820 میں سزائے موت دی گئی تھی۔

1995 کا قتل

کرسٹا پائیک کو 1995 میں 19 سالہ کولیئن سلیمر کے قتل کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔

اس وقت پائیک کی عمر 18 سال تھی اور وہ ناکس ول کے جاب کورپس مرکز میں زیر تعلیم تھیں۔

استغاثہ کے مطابق پائیک نے اپنے 17 سالہ بوائے فرینڈ اور ایک تیسرے ساتھی کے ساتھ مل کر جرم کیا۔

تینوں لڑکی کو جنگل کے علاقے میں لے گئے اور وہاں اس پر تشدد کیا گیا۔

مقدمے کے دوران جرم کی تفصیلات نے خاصی توجہ حاصل کی تھی۔

تفتیش میں مقتولہ کے جسم پر پانچ کونوں والے ستارے جیسا نشان بنائے جانے کا بھی ذکر سامنے آیا۔

مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق کرسٹا پائیک نے مقتولہ کی کھوپڑی کا ایک ٹکڑا بھی اپنے پاس رکھا تھا۔

پائیک اور ان کے بوائے فرینڈ نے جرم میں اپنے کردار کا اعتراف بھی کیا تھا۔

سزائے موت سنائی گئی

1996 میں کرسٹا پائیک کو فرسٹ ڈگری قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔

ان کے بوائے فرینڈ کو اسی مقدمے میں عمر قید کی سزا دی گئی۔

گزشتہ برسوں کے دوران پائیک کے وکلا نے سزائے موت کے خلاف متعدد قانونی کوششیں کیں۔

دفاع کا مؤقف تھا کہ جرم کے وقت پائیک خود کم عمر تھیں اور شدید صدمات سے گزر چکی تھیں۔

وکلا کے مطابق پائیک کو بچپن میں تشدد اور جنسی زیادتی کا سامنا رہا تھا۔

ان کے مطابق بعد میں ان میں بائی پولر ڈس آرڈر اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کی تشخیص ہوئی۔

دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ 50 سال کی عمر میں پائیک کی شخصیت جرم کے وقت سے مختلف ہوچکی ہے۔

وکلا نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے کیے پر پشیمان ہیں۔

رحم کی درخواست مسترد

کرسٹا پائیک کی رحم کی درخواست ٹینیسی کے گورنر بل لی پہلے ہی مسترد کرچکے تھے۔

اس کے بعد ان کے وکلا نے عدالتوں سے سزا پر عملدرآمد روکنے کی کوشش جاری رکھی۔

دفاع نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ جرم کے وقت پائیک کی عمر اور ذہنی حالت کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے تھی۔

اقوام متحدہ کے بعض انسانی حقوق ماہرین نے بھی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی اپیل کی تھی۔

پائیک نے مہلک انجکشن کے بجائے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

ان کے وکلا نے اس کی وجہ بچپن کے جنسی تشدد سے جڑے شدید ذہنی صدمے کو قرار دیا تھا۔

انجکشن پر پہلے ہی اعتراض

دفاعی وکلا نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ پائیک کی چھوٹی رگوں کے باعث انجکشن لگانے میں دشواری ہوسکتی ہے۔

انہوں نے خون سے متعلق ایک طبی مسئلے کا بھی حوالہ دیا تھا۔

ریاست نے دفاع کے اس مؤقف سے اختلاف کیا تھا اور مہلک انجکشن کے ذریعے سزا پر عملدرآمد کا طریقہ برقرار رکھا۔

بالآخر حکام نے مقررہ طریقہ کار کے تحت سزا پر عملدرآمد شروع کردیا۔

تاہم دو مرتبہ انجکشن دینے کے باوجود پائیک کی موت واقع نہیں ہوئی۔

دفاعی وکلا نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ دونوں سرنجوں میں موجود کیمیکل دینے کے بعد بھی وہ زندہ تھیں۔

حکام کا مؤقف

ٹینیسی محکمہ اصلاحات نے کہا کہ حکام نے ریاست کے منظور شدہ قانونی طریقہ کار کے تمام مراحل پر عمل کیا۔

محکمے کے مطابق اس صورتحال کے بعد مزید کارروائی کی اجازت موجودہ پروٹوکول میں نہیں تھی۔

بعد ازاں کرسٹا پائیک کو ایک بیرونی طبی مرکز منتقل کردیا گیا۔

یوں مقررہ وقت میں سزائے موت پر عملدرآمد مکمل نہ ہوسکا۔

یہ واقعہ اب صرف ایک سزا پر عملدرآمد کی ناکام کوشش تک محدود نہیں رہا۔

اس نے امریکا میں سزائے موت کے طریقہ کار پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کردی ہے۔

خاص طور پر خواتین کو سزائے موت، کم عمری میں کیے گئے جرائم اور بچپن کے صدمات جیسے معاملات دوبارہ زیر بحث آگئے ہیں۔

مقدمے میں پائیک کے ماضی اور موجودہ حالت سے متعلق دفاعی مؤقف بھی قانونی بحث کا حصہ بنا ہوا ہے۔

ٹینیسی میں تقریباً دو صدیوں بعد کسی خاتون کو سزائے موت دینے کی کوشش تھی۔

تاہم دو مہلک انجکشن کے باوجود موت واقع نہ ہونے سے یہ عمل ایک غیر معمولی قانونی صورتحال میں تبدیل ہوگیا۔

editor

Related Articles