ایمرجنسی پر حکومت کی ورکنگ مکمل، اب فیصلہ کس بات پر ہوگا؟وفاقی وزیر نے وجہ بتا دی
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال دن بدن خراب ہورہی ہے، ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا جبکہ لانگ مارچ اور ایمرجنسی کے معاملے کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت کے وزرا کی جانب سے ایمرجنسی کے معاملے پر بتایا گیا ہے کہ اس پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق مختلف پہلوؤں اور اس کے ممکنہ اثرات پر ورکنگ مکمل کی جاچکی ہے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ ایمرجنسی کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد ہوگا، تاہم اس معاملے کو لانگ مارچ سے جوڑنا درست نہیں۔
لانگ مارچ سے تعلق نہیں
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر یہ سمجھا جارہا ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں لانگ مارچ مؤخر کردیا گیا تو اس کے بعد ایمرجنسی کا معاملہ بھی ختم ہوجائے گا، تو یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ دونوں معاملات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو بھی حکومت کی تیاری مکمل تھی اور 4 اکتوبر کے لیے بھی تمام تیاریاں مکمل ہیں۔
اسلام آباد کا تحفظ اور کسی ہجوم کو روکنا حکومت کے لیے مسئلہ نہیں، اس حوالے سے حکومت اپنی تیاری مکمل رکھتی ہے۔
دہشت گردی بنیادی وجہ
وفاقی وزیر کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کی بات خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے بعد شروع ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی شہادتوں میں اضافہ ہورہا ہے اور امن و امان کی صورتحال مسلسل خراب ہورہی ہے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف وفاقی اقدامات کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے جبکہ ان کے بقول خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی روکنے کے لیے وفاقی اقدامات کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بات ہوگی اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی روکنے کے لیے وفاق کو جس تعاون کی ضرورت ہے، صوبائی حکومت کو وہ تعاون کرنا ہوگا۔
کرائم اور اسمگلنگ کا ذکر
وفاقی وزیر نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کی کمزوری کے باعث دہشت گردی، جرائم اور اسمگلنگ کے درمیان گٹھ جوڑ بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں حالات پر قابو پانے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
