وزیراعلیٰ کو سیاسی سرگرمیوں سے فرصت نہیں، بنوں میں سرکاری سکول کی حالت زار دیکھ کر اسسٹنٹ کمشنر سر پکڑ کر بیٹھ گئے

وزیراعلیٰ کو سیاسی سرگرمیوں سے فرصت نہیں، بنوں میں سرکاری سکول کی حالت زار دیکھ کر اسسٹنٹ کمشنر سر پکڑ کر بیٹھ گئے

تعلیمی ایمرجنسی کے دعووں کے باوجود سرکاری سکولوں کی زمینی صورتحال ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی۔ بنوں کے علاقے لگری کلے شیر بہادر میں گورنمنٹ پرائمری سکول کی خستہ حالی اور طلبہ کی عدم موجودگی نے سرکاری تعلیمی اداروں کی نگرانی اور انتظامی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے۔

اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر بنوں اللہ نواز خان نے سکول کا اچانک معائنہ کیا تو وہاں طلبہ کی عدم موجودگی کے ساتھ ساتھ سکول کی عمارت کی ابتر حالت بھی سامنے آئی۔ صورتحال پر اسسٹنٹ کمشنر نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کا فوری نوٹس لیا۔

اسسٹنٹ کمشنر نے سکول کی صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کی غیرحاضری اور عمارت کی خستہ حالی سے متعلق تفصیلی رپورٹ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو ارسال کردی۔

رپورٹ میں ذمہ داران کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق ضروری قانونی اور محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا ’سہیل آفریدی حکومت‘ کے سیاسی جلسوں اور اسلا آباد پر چڑھائی کے لیے وسائل منٹوں میں دستیاب، فورسز کی حفاظت کے لیے خزانہ خالی

اللہ نواز خان نے واضح کیا کہ سرکاری سکولوں میں طلبہ کی حاضری، تدریسی عمل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فرائض میں کوتاہی کے ذمہ دار افراد کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واقعے نے سرکاری سکولوں کی معمول کی نگرانی اور محکمانہ انسپیکشن کے نظام پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اگر ایک اچانک معائنے کے دوران سکول میں طلبہ کی عدم موجودگی اور عمارت کی خستہ حالی سامنے آسکتی ہے تو یہ سوال اہم ہے کہ معمول کی نگرانی اور محکمانہ انسپیکشن کے دوران یہ مسائل کیوں سامنے نہیں آئے؟

یہ صورتحال سرکاری تعلیمی اداروں کی نگرانی، اساتذہ اور طلبہ کی حاضری، بنیادی سہولیات اور محکمانہ احتساب کے مؤثر نظام کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

Related Articles