اسلام آباد میں اہم بیٹھک: سینیئر اینکر پرسن محمد مالک بڑی خبر باہر لے آئے

اسلام آباد میں اہم بیٹھک: سینیئر اینکر پرسن محمد مالک بڑی خبر باہر لے آئے

نہ کیمرے تھے، نہ ریکارڈنگ، مگر فیصلے بڑے ہوگئے ، سینیئر اینکر پرسن محمد مالک اسلام آباد کی  بند کمرہ بیٹھک کی بڑی خبر باہر لے آئے ہیں۔

بیٹھک میں کیا ہوا؟

سینیئر اینکر پرسن محمد مالک نے اپنے ٹی وی پروگرام میں گزشتہ روز ہونیوالی اسلام آباد کی ایک بند کمرہ بڑی بیٹھک سے بڑی خبریں اور اس کی اندرونی کہانی بتادی  ، ان کاکہنا ہے کہ  اس میٹنگ میں خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بڑے فیصلے کرلیے گئے ہیں ۔

محمد مالک کے مطابق  یہ میٹنگ کل اسلام آباد میں ہوئی اور وہاں کیمرے موجود نہیں تھے اور میٹنگ مکمل طور پر آف دی ریکارڈ تھی جبکہ  ملک کے “تین بڑوں” میں سے دو اس میں شریک تھے اور دو ایسی شخصیات بھی موجود تھیں جو اتنی نمایاں نہیں، مگر ہر بڑے فیصلے کا حصہ ہوتی ہیں اور یہ پرائم منسٹر ہاؤس کی میٹنگ تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کے پی اور اس سے جڑے تمام معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا،خاص طور پر کے پی  اور اس تمام ایشو کا بھی جو چل رہا ہے اگر میں ایک جملے میں بتاؤں کہ وہاں کیا پالیسی طے ہوئی، تو وہ تھا “No more nonsense”۔

یہ ایک شخص کے الفاظ تھے کہ “No more nonsense”، یہ پالیسی فائنل ہوئی ۔

محمد مالک کے مطابق میٹنگ میں ملکی معیشت پر بھی بات ہوئی ، وزیراعظم تک کچھ سنجیدہ تحفظات بھی  پہنچائے گئے کہ باقی معاملات ٹھیک چل رہے ہیں اور ادارے اپنا کام کر رہے ہیں، تو معیشت پر ویسی کارکردگی کیوں نظر نہیں آ رہی لیکن اوورآل اس میٹنگ کا تھیسز یہ تھا کہ اگر اس چیز سے پیچھے ہٹنا ہے تو پھر ہمیں کوئی کوجنٹ ریزنز (cogent reasons) چاہیے ہوں گے اور یہ بڑے فیصلے لے لیے گئے۔

سینئر اینکر پرسن نے اپنی گفتگو میں  ایک اور اہم  اور ہائی پاورڈ میٹنگ کا ذکر کیا جس میں وزیراعظم تھے، صدرِ پاکستان ، اسحاق ڈار ، محسن نقوی۔ وزیرِ قانون نذیر تارڑ ، رانا ثناء اللہ،  ڈاکٹر توقیر شاہ، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور شرجیل میمن صاحب ، صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ بھی موجود تھے۔

سینئر اینکر پرسن نے کہا کہ سب سے دلچسپ  بات یہ ہے کہ یہ تو سارے پولیٹیکل لوگ تھے، لیکن اس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور اعوان صاحب بھی تھے یہ بڑا کلیئر انڈیکیشن تھا کہ اس کے اندر ٹیکنیکلیٹیز پر بھی بات ہوئی ہوگی۔

کے پی ایمرجنسی کا آپشن اور سیاسی نتائج

سینئر اینکر پرسن کا کہنا تھا کہ کلیئرلی دو تین ایشوز چل رہے ہیں ، ایک تو یہ کہ اگر آپ کے پی  وہاں ایمرجنسی لگاتے ہیں تو اس کے سیریس پولیٹیکل ریپرکشنز (political repercussions) ہیں کیونکہ گورنمنٹ کہتی ہے کہ ہمیں کوئی فکر نہیں  ، ہمارے شوز میں بھی یہ کہا گیا ہے کہ وہاں پی ٹی آئی کی بالکل پاپولیرٹی نہیں ہے، اور عمران خان صاحب کی وہ قبولیت نہیں ہے جو آج سے  کچھ سال پہلے تھی۔

یہ بھی پڑھیں :تبدیلی کے نام پر تباہی، خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی ایک سالہ ناقص کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری

اس پر محمد مالک نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت واقعی ایسا سمجھتی ہے تو پھر پی ٹی آئی کو “وکٹم کارڈ” کیوں دینا چاہے گی ، انہوں نے یاد دلایا کہ عمران خان کی حکومت ختم ہونے سے پہلے ایک سال میں تقریباً 64 ضمنی انتخابات ہوئے، جن میں سے ان کے بقول وہ صرف 21 جیت سکے اور آخر میں مسلسل 10 سے 15 ہارے۔ ان کا کہنا تھا کہ  ہارنے والی نشستوں کی مجموعی تعداد 43 سے زیادہ تھی۔ محمد مالک کے مطابق اب ویسی ہی صورتحال دوبارہ نظر آ رہی ہے۔

متبادل ناموں کی گونج

محمد مالک نے یہ بھی بتایا کہ ہم ابھی نام بھی سن رہے ہیں ، بابر سواتی (جو اس وقت اسپیکر ہیں) اور کے پی کے سابق اسپیکر مشتاق غنی کے نام بھی سننے میں آ رہے ہیں تاہم تبدیلی کیسے آئے گی، اس پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے کچھ وزرا کے مطابق ابھی سہیل آفریدی کے خلاف مقدمات ہیں اور عدالت سے نااہلی کی صورت میں تبدیلی آ سکتی ہے، مگر یہ ایک طویل عمل ہے۔

سینئر اینکر پرسن نے دعوی کیا کہ  ہم  ایک اور امکان کی بات بھی سن رہے ہیں، جسے وہ “نیگوشی ایٹڈ بغاوت” کہتے ہیں  ،  اس پر ان کی وضاحت یہ تھی کہ اگر پس پردہ بات چیت میں عمران خان کے ساتھ کوئی معاملہ طے پا جائے تو “فیس سیونگ” کے طور پر ان کی اجازت سے عدم اعتماد کی تحریک آ سکتی ہے اور اندرونِ ایوان تبدیلی ہو سکتی ہے ،  ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے پہلے کوئی بہت بڑا “کوئڈ پرو کو” درکار ہوگا۔

editor

Related Articles