مسجد الحرام میں شخص گرفتار، کیا وہ خودکش بمبار تھا؟ حکام نے واضح کردیا

مسجد الحرام میں شخص گرفتار، کیا وہ خودکش بمبار تھا؟ حکام نے واضح کردیا

حرمین شریفین کے حکام نے مسجد الحرام سے خودکش بمبار کی گرفتاری سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مسجد الحرام سے کسی خودکش بمبار کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

حکام کے مطابق مسجد الحرام میں ایک شخص کو سکیورٹی اہلکاروں نے اس وقت حراست میں لیا جب اس کے رویے سے وہاں موجود زائرین میں خوف و ہراس پھیل رہا تھا اور انہیں ہراساں کیا جا رہا تھا۔

سکیورٹی حکام نے بتایا کہ مذکورہ شخص کے خلاف فوری طور پر ضروری قانونی کارروائی مکمل کی گئی، جس کے بعد اسے مزید قانونی کارروائی کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:کارکنوں کی عدم دلچسپی اور مارچ کی تیاریوں پر اختلاف، پی ٹی آئی آج حکومت سے مذاکرات کرے گی

حکام نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر اس واقعے کو خودکش بمبار کی گرفتاری سے جوڑ کر پیش کرنا درست نہیں۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسی حساس اطلاعات کو تصدیق کے بغیر آگے پھیلانے سے گریز کریں۔

یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مسجد الحرام اور حرمین شریفین سے متعلق کسی بھی سکیورٹی خبر پر دنیا بھر میں فوری توجہ مرکوز ہوجاتی ہے۔ سعودی حکام اس سے قبل بھی مقدس مقامات کے تحفظ اور زائرین کی سلامتی کے لیے سکیورٹی انتظامات پر زور دیتے رہے ہیں۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles