امریکا ایران کشیدگی میں نیا موڑ، ایرانی وفد نیویارک سے روانہ، خطے میں امریکی بحری بیڑے بڑھنے لگے

امریکا ایران کشیدگی میں نیا موڑ، ایرانی وفد نیویارک سے روانہ، خطے میں امریکی بحری بیڑے بڑھنے لگے

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور مذاکرات میں تعطل کے دوران صورتحال ایک بار پھر سنگین ہوگئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شریک ایرانی وفد کو نیویارک سے مقررہ وقت سے پہلے روانہ ہونے کی ہدایت کی جبکہ دوسری جانب امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید ہزاروں فوجی اور بحری وسائل تعینات کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ایرانی وفد کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کے بعد مارکو روبیو نے ایرانی وفد کو نیویارک چھوڑنے کی ہدایت کی۔ امریکی حکام کے مطابق وفد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل تھے اور وفد منگل کی علی الصبح نیویارک سے روانہ ہوگیا۔

تاہم ایران کے اقوام متحدہ میں مشن نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ ایرانی وفد کو امریکا سے بے دخل کیا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق وفد کی واپسی پہلے سے طے شدہ سفری شیڈول کے مطابق ہوئی تھی، جس سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کو 17 ستمبر کو آگاہ کردیا گیا تھا۔

امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں قطر ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، جنگ بندی، ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں جاری کشیدگی سمیت مختلف معاملات زیر بحث آئے، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلافات دور نہ ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں:شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ، 7 خوارج ہلاک

رپورٹس کے مطابق قطر کی جانب سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے، تاہم نیویارک میں ہونے والی کوششیں کسی واضح معاہدے یا بریک تھرو تک نہیں پہنچ سکیں۔

دوسری جانب امریکی دفاعی حکام نے مشرق وسطیٰ میں اضافی فوجی قوت بھیجنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق تقریباً 9 ہزار سے 10 ہزار مزید امریکی اہلکار خطے میں بھیجے جارہے ہیں، جن میں بحری اور میرین فورسز شامل ہیں۔

اس تعیناتی میں یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ اور یو ایس ایس میکن آئی لینڈ ایمفی بیئس ریڈی نیس گروپ شامل ہیں۔ ان اضافی بحری وسائل کی آمد کے بعد خطے میں امریکی طیارہ بردار بحری گروپس کی تعداد تین تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق نئی تعیناتی سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ ہوگا اور واشنگٹن کو خطے میں ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں اضافی آپشنز حاصل ہوں گے۔ تاہم ان فوجی نقل و حرکت کو کسی حتمی حملے کے فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف بمباری میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے امن فارمولے کو ناکافی قرار دے چکے ہیں، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے تجاویز پیش کی تھیں۔

موجودہ صورتحال میں ایک طرف قطر کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں تو دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے خطے میں فوجی قوت بڑھائی جارہی ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے مذاکرات میں تعطل اور ایران پر مزید دباؤ کی بات کی جارہی ہے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن دباؤ اور یکطرفہ شرائط قبول نہیں کرے گا۔

یوں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جہاں سفارتی کوششیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں، لیکن مذاکرات میں فوری پیش رفت بھی سامنے نہیں آسکی، جبکہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں ممکنہ اضافے نے آئندہ صورتحال کے بارے میں مزید سوالات پیدا کردیئے ہیں

Qaisar Mirza
editor

Related Articles