رہائی عمران خان کی، نقصان قومی خزانے اور عوام کا،احتجاجی سیاست کے مالی و سماجی اثرات سامنے آگئے

رہائی عمران خان  کی، نقصان قومی خزانے اور عوام کا،احتجاجی سیاست کے مالی و سماجی اثرات سامنے آگئے

عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے مختلف لانگ مارچ، دھرنوں اور احتجاجی تحریکوں کے دوران حکومت کو بھاری مالی اخراجات، سرکاری و نجی املاک کے نقصانات اور شہریوں کے معمولات زندگی میں بڑے پیمانے پر خلل کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاجی سیاست کے باعث سڑکوں کی بندش، کاروباری سرگرمیوں میں کمی، تعلیمی اداروں کی بندش اور سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات نے ریاستی وسائل پر اضافی بوجھ ڈالا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف 2024 میں پی ٹی آئی کے اسلام آباد احتجاجوں کے ایک سلسلے کے دوران قومی خزانے کو ایک ارب 11 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان یا اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑا جبکہ سرکاری اور نجی املاک کو تقریباً 15 کروڑ 27 لاکھ روپے کا نقصان پہنچنے کی رپورٹ سامنے آئی۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق جولائی سے نومبر 2024 کے دوران متعدد احتجاجی سرگرمیوں میں پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے تک تعینات رکھنا پڑا۔

یہ مالی بوجھ صرف پولیس یا کنٹینرز تک محدود نہیں رہا۔ احتجاج کے دوران دارالحکومت کے داخلی و خارجی راستے بند کیے گئے، بڑے راستوں پر کنٹینرز لگائے گئے اور سکیورٹی کے باعث شہریوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی۔ نومبر 2024 کے احتجاج کے دوران اسلام آباد میں کئی دکانیں بند رہیں، تجارتی مراکز میں گاہکوں کی تعداد کم ہوئی اور شہریوں کو روزمرہ کے معمولات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ نومبر 2024 کے احتجاج کے دوران اسلام آباد میں تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں طلبہ اور والدین کے معمولات متاثر ہوئے۔

کاروباری سرگرمیوں پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے وزارت خزانہ نے بتایا تھا کہ احتجاج کے باعث ملکی معیشت کو روزانہ تقریباً 190 ارب روپے کا نقصان ہو رہا تھا۔ جی ڈی پی کو روزانہ 144 ارب روپے، برآمدات کو 26 ارب روپے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو تقریباً 3 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا، جبکہ آئی ٹی اور ٹیلی کام کے نقصانات اس تخمینے میں شامل نہیں تھے۔

وزارت اطلاعات کی جانب سے نومبر 2024 کے اسلام آباد احتجاج کے بارے میں بھی بتایا گیا کہ قومی معیشت کو 1.11 ارب روپے کا نقصان ہوا جبکہ 15 کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی سرکاری املاک متاثر ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی رہائی اور علاج کیلئے آرٹیکل 10-A اور رول 197 میں طریقہ موجود، پھر لانگ مارچ کیوں؟

احتجاجی سیاست کے دوران ریاستی تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان اس بحث کا ایک اور اہم پہلو ہے۔ 9 مئی 2023 کے واقعات میں لاہور کے جناح ہاؤس، جی ایچ کیو، ریڈیو پاکستان پشاور اور دیگر سرکاری و حساس تنصیبات کو نقصان پہنچنے اور بعض مقامات پر آتش زنی کی سرکاری رپورٹس سامنے آئیں۔ صدرِ مملکت کے دفتر نے بھی 9 مئی کے واقعات میں عوامی املاک اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی تھی۔

ریڈیو پاکستان پشاور کی تاریخی عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ سرکاری معلومات کے مطابق عمارت کی بحالی اور تزئین و آرائش پر بعد میں تقریباً 10 کروڑ روپے کی لاگت آئی جبکہ قیمتی تاریخی ریکارڈ بھی ضائع ہوا۔

اسلام آباد پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے مختلف احتجاجوں میں ایک پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ 42 اہلکار، جن میں 38 پولیس اور 4 رینجرز اہلکار شامل تھے زخمی ہوئے۔ سرکاری و نجی املاک کو پہنچنے والے نقصان کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

جنوری 2025 میں اسلام آباد پولیس کے ایک اور جائزے میں تین بڑے احتجاجی واقعات کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کو 45 کروڑ روپے سے زائد کے مالی نقصان کا تخمینہ بھی سامنے آیا جس میں پولیس انفراسٹرکچر، گاڑیوں اور دیگر سرکاری املاک کو پہنچنے والا نقصان شامل تھا۔

یوں عمران خان کی رہائی کے مطالبے سے شروع ہونے والی احتجاجی سیاست کا اثر صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں رہا۔ مختلف اوقات میں سڑکیں بند ہوئیں سکول اور تعلیمی ادارے بند کرنا پڑے کاروباری مراکز متاثر ہوئے، دکانیں بند رہیں، شہریوں کی آمدورفت محدود ہوئی، پولیس اور دیگر اداروں کی بھاری نفری تعینات ہوئی اور سرکاری و قومی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔

اصل سوال یہی ہے کہ عمران خان کی رہائی کے سیاسی مطالبے کی قیمت جب سکیورٹی اخراجات، سرکاری املاک کے نقصان، کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ، تعلیمی اداروں کی بندش اور شہریوں کے معمولات میں خلل کی صورت میں سامنے آئے تو اس کا بوجھ بالآخر کس پر پڑتا ہے؟ سیاسی کشمکش کا مالی اور سماجی اثر حکومت، ریاستی اداروں، کاروباری طبقے اور عام شہری سب کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles