ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کی ایک فوڈ انوویشن لیب نے خوراک کے ضائع شدہ اجزاء سے چاکلیٹ جیسی میٹھی غذا تیار کر کے خوراک کی دنیا میں نئی مثال قائم کر دی۔
شیف راسمُس مُنک کی سربراہی میں کام کرنے والی اسپورا لیب میں شیف اور سائنسدان ایک ساتھ تجربات کر رہے ہیں ، ان کا مقصد ان غذائی اجزاء کو کارآمد بنانا ہے جنہیں عموماً کچرے میں پھینک دیا جاتا ہے۔
ان تجربات کا ایک نمایاں نتیجہ کوکو کے بغیر بنائی گئی چاکلیٹ کا متبادل ہے ، یہ لیب کی مصنوعات اسنیپ کی تیاری کے بعد بچ جانے والے اجزاء اور دالوں سے تیار ہوتا ہے ، یہ ڈارک، ملک اور گولڈ تین اقسام میں دستیاب ہے، اور اس کے ذائقے میں گری دار میوے اور کیریمل کی جھلک ملتی ہے۔
فوڈ کری ایٹرز اینڈرز ہُوسا اور کیٹلِن نے حال ہی میں اسپورا کا دورہ کیا اور وہاں بننے والی مختلف مصنوعات چکھیں ، ان میں اسنیپ سے تیار کردہ ٹرفل بھی تھی۔
کیٹلِن کے مطابق اس کا ذائقہ اصل چاکلیٹ سے بہت ملتا جلتا تھا۔
اسپورا کا ہدف محض چاکلیٹ کا متبادل بنانا نہیں ، وہ خوراک کے ضیاع میں کمی لا کر پائیدار پروٹین اور دیگر غذائی مصنوعات بھی تیار کرنا چاہتے ہیں، لیب میں مختلف کھانوں کے بچے ہوئے اجزاء کو نئی اور زیادہ مفید غذاؤں میں ڈھالنے کا کام مسلسل جاری ہے۔