امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی سے متعلق ایک بڑے سائبر حملے کے معاملے میں اردن میں ایک نوعمر ہیکر کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق اردن میں سیف الدین خضر نامی نوجوان کو حراست میں لیا گیا ہے، جس پر ایف بی آئی سے متعلق سائبر حملے میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم ابھی تک ایف بی آئی کی جانب سے نوجوان کی شناخت یا حراست کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سیف الدین خضر پر مشہور ہیکنگ گروپ شائنی ہنٹرز سے مبینہ تعلق کا بھی شبہ ہے۔ شائنی ہنٹرز نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایف بی آئی کی ملازمتوں سے متعلق ویب سائٹ میں سائبر حملہ کرکے ادارے کے ملازمین سے متعلق دو ٹیرابائٹس سے زیادہ ڈیٹا حاصل کیا۔
ہیکرز کے دعوے کے مطابق اس ڈیٹا میں ملازمین کے فون نمبرز، گھریلو پتے، طبی معلومات اور دیگر حساس تفصیلات شامل تھیں۔ ایف بی آئی کے مطابق ادارہ شائنی ہنٹرز سے مبینہ طور پر منسلک حالیہ سائبر واقعے کی تحقیقات کررہا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ شراکت داروں کے تعاون سے متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے، جبکہ سائبر حملے کے ذمہ دار افراد تک پہنچنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔