دنیا میں خون کے کئی مختلف گروپس پائے جاتے ہیں، لیکن ایک ایسا بلڈ گروپ بھی موجود ہے جو انتہائی نایاب ہونے کی وجہ سے سنہری خون کے نام سے مشہور ہے۔ طبی زبان میں اسےآر ایچ نِل کہا جاتا ہے۔
عام طور پر انسانی خون کے سرخ خلیوں کی سطح پر مختلف اینٹی جنز موجود ہوتے ہیں۔ انہی اینٹی جنز کی بنیاد پر خون کے گروپس، جیسے اے، بی اور او، جبکہ آر ایچ فیکٹر کو مثبت یا منفی قرار دیا جاتا ہے۔
لیکن آر ایچ نِل خون اس حوالے سے بالکل مختلف ہے۔ اس بلڈ گروپ کے حامل افراد کے سرخ خلیوں پر آر ایچ سسٹم کے 61 ممکنہ اینٹی جنز موجود نہیں ہوتے۔ یہی غیر معمولی خصوصیت اسے دنیا کے نایاب ترین بلڈ گروپس میں شامل کرتی ہے۔
دستیاب طبی معلومات کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں میں دنیا بھر میں بہت کم افراد میں آر ایچ نِل خون کی تشخیص ہوئی ہے، جبکہ اس وقت فعال عطیہ دہندگان کی تعداد بھی انتہائی محدود ہے۔ اسی غیر معمولی کمی کی وجہ سے اس خون کو طبی دنیا میں انتہائی قیمتی سمجھا جاتا ہے اور اس کے عطیات کو خصوصی طور پر محفوظ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
نایاب مریضوں کے لیے انتہائی قیمتی
آر ایچ نِل خون کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں آر ایچ سسٹم کے اینٹی جنز موجود نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے یہ بعض انتہائی نایاب آر ایچ بلڈ گروپس رکھنے والے مریضوں کے لیے زندگی بچانے والا ثابت ہوسکتا ہے۔
تاہم اسے ہر مریض کے لیے مکمل طور پر یونیورسل ڈونر قرار دینا درست نہیں، کیونکہ خون کی منتقلی میں صرف آر ایچ فیکٹر نہیں بلکہ دیگر بلڈ گروپ سسٹمز بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
خودآر ایچ نِل افراد کے لیے خطرہ
اس خون کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ آر ایچ نِل رکھنے والے افراد کے لیے مناسب خون تلاش کرنا انتہائی مشکل ہوسکتا ہے۔ اگر انہیں خون کی ضرورت پڑ جائے تو عام خون کی بجائے انتہائی محتاط مطابقت ضروری ہوتی ہے۔
اسی وجہ سے آر ایچ نِل افراد کے خون کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی قیمتی سمجھا جاتا ہے اور ان کے خون کے عطیات کو مستقبل کی ہنگامی ضرورت کے لیے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یعنی جس خون کی ایک بوند کسی دوسرے نایاب مریض کے لیے زندگی کی امید بن سکتی ہے، اسی خون کے مالک کے لیے ضرورت کے وقت مناسب خون تلاش کرنا ایک بڑا طبی چیلنج بن سکتا ہے۔