کل تک جس کنٹینر پر کھڑے ہو کر سہیل آفریدی بڑے بڑے دعوے اور بلند بانگ نعرے لگاتے تھے، آج وہی کنٹینر مردان میں بے یار و مددگار کھڑا ہے،کنٹینر کے ٹائر پنکچر، قیادت غائب، سیاسی شو ختم اور انقلاب کی سواری اپنے مسافروں کی راہ تکنے لگی،جس کنٹینر کو احتجاجی سیاست میں طاقت اور جوش کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا تھا، اب اس کی تنہائی نے ایک دلچسپ سیاسی منظر پیدا کردیا ہے۔
دعوے بڑے، انجام دلچسپ
سیاسی احتجاج کے دوران کنٹینر پر کھڑے ہو کر بلند بانگ دعوے کرنا اور کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے جوشیلے نعرے لگانا تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست کا نمایاں انداز رہا ہے، سہیل آفریدی بھی اسی کنٹینر پر کھڑے ہو کر بڑے بڑے دعوے کرتے دکھائی دیتے تھے، لیکن اب مردان میں اسی کنٹینر کی خستہ حالی دیکھ کر لوگ قہقہے لگا رہے ہیں ۔
کل تک جس کنٹینر سے انقلاب برپا کرنے کے دعوے کیے جارہے تھے، آج وہی کنٹینر پنکچر ٹائروں کے ساتھ کھڑا ہے، سیاسی قیادت اور کارکنوں کی عدم موجودگی میں یہ منظر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ بڑے بڑے دعووں کے بعد احتجاجی قافلے کا انجام آخر کیا ہوا؟
انقلاب کی سواری، مسافر غائب
جس کنٹینر پر کھڑے ہو کر کارکنوں کو بڑے اہداف دکھائے جاتے تھے، اب اسی کنٹینر کو خود مدد اور توجہ کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ قیادت کی غیر موجودگی میں کنٹینر کا منظر ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے انقلاب کی سواری تو موجود ہے، لیکن اس کے مسافر راستے میں ہی کہیں غائب ہوگئے ہوں۔
سیاسی شو کا دلچسپ اختتام
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے کی سیاسی صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ ایسے ماحول میں تحریک انصاف کی احتجاجی سرگرمیوں، قیادت کے دعووں اور کارکنوں کی عملی موجودگی پر بحث بھی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔
مردان میں کھڑا پنکچر کنٹینر اسی سیاسی منظرنامے پر ایک طنزیہ تبصرے کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ ایک طرف کنٹینر ماضی کے جوشیلے نعروں اور بڑے دعووں کی یاد دلاتا ہے تو دوسری طرف اس کے گرد قیادت اور کارکنوں کی عدم موجودگی سیاسی شو کے اختتام کا تاثر دیتی ہے۔
کنٹینر تو رہ گیا، انقلابی کہاں گئے؟
اس پورے منظر کا سب سے دلچسپ پہلو یہی ہے کہ کنٹینر اپنی جگہ موجود ہے، مگر اس پر کھڑے ہو کر دعوے کرنے والے رہنما اور احتجاجی قافلہ دکھائی نہیں دے رہے کل تک انقلاب کی علامت بننے والا کنٹینر آج مردان میں اپنی بے بسی کی کہانی سناتا محسوس ہوتا ہے۔
سیاسی دعوے اپنی جگہ، لیکن عوامی سیاست میں اصل اہمیت نعروں کے ساتھ عملی موجودگی اور نتائج کی ہوتی ہے مردان میں پنکچر ٹائروں کے ساتھ کھڑے اس کنٹینر کو دیکھ کر لوگ سوچتے تو ہوں گے کہ انقلاب کا ملبہ مل گیا، کنٹینر موجود ہے، مگر انقلابی آخر گئے کہاں؟